صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 257
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۵۷ ۶۸ - كتاب الطلاق بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی اسے الگ کر دیا۔ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتِ السُّنَّةُ حضرت سہل نے کہا: اس سے لعان کرنے والوں بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ کے درمیان جدائی ہونے لگی۔ ابن جریج نے کہا: وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى ابن شہاب کہتے تھے: پھر ان دونوں کے بعد یہی دستور ہو گیا کہ لعان کرنے والوں کو جدا کر دیا لِأُمِّهِ۔ قَالَ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي جائے۔ اور وہ حاملہ تھی (اس نے بیٹا جنا) اور اُس کا مِيْرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔ فَرَضَ اللَّهُ لَهُ۔ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ وہ کہتے تھے: پھر اس (لعان کرنے والی) کے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ میراث کے متعلق بھی یہی طریقہ جاری ہوا کہ وہ السَّاعِدِي فِي هَذَا الْحَدِيْثِ إِنَّ عورت بچے کی وارث ہوتی اور بچہ اس کا وارث النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ ہوتا، اس حق کا جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا۔ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ ابن جریج نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے فَلَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ حضرت سہل بن سعد ساعدی سے اسی حدیث عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا میں نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر أَلْيَتَيْنِ فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا اس نے سرخ رنگ، پست قد جنا جیسے وحدہ چھپکلی کی مانند ایک زہریلا جانور ) ہے تو میں اس فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوْهِ مِنْ ذَلِكَ۔ کے متعلق یہی سمجھوں گا کہ اُس عورت نے سچ بولا اور اُس شخص نے اُس کے متعلق جھوٹ کہا۔ اور اگر اس نے سیاہ رنگ کا بڑی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا جنا تو میں اُس شخص کے متعلق یہی سمجھوں گا کہ اُس نے اُس عورت کے متعلق سچ کہا۔ چنانچہ اس نے ویسا ہی مگر وہ شکل کا بچہ جنا۔ (جس سے اس شخص کو سچا سمجھا گیا۔) أطرافه : ٤٢٣، ٤٧٤٥ ، ٤٧٤٦ ، ٥٢٥٩، ٥٣٠٨، ٦٨٥٤ ، ٧١٦٥، ٧١٦٦، ٧٣٠٤۔