صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 248 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 248

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۴۸ ۶۸ کتاب الطلاق مَوْضِعَهَا فَهُوَ يُوْسِعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ چلا آتا ہے۔اور جو بخیل ہے وہ خرچ کرنے کا ارادہ وَيُشِيْرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ۔نہیں کرتا مگر اس جبے کا ایک ایک حلقہ اپنی جگہ میں سمٹ کر تنگ ہو جاتا ہے۔اور وہ اس کو کشادہ أطرافه : ١٤٤٣، ١٤٤٤، 1917، 5797۔کرتا ہے اور وہ کشادہ نہیں ہوتا۔اور وہ اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔بَاب ٢٥ : اللعَانُ لعان کا بیان وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَالَّذِينَ يَرْمُونَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور جو لوگ اپنی بیویوں پر اَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا الزام لگاتے ہیں اور اُن کے پاس سوائے اپنے أَنْفُسُهُمْ إِلَى قَوْلِهِ لَمِنَ الصُّدِقِينَ وجود کے اور کوئی گواہ نہیں ہو تا تو اُن میں سے ہر (النور: ٧-١٠) شخص کو ایسی گواہی دینی چاہیے جو اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیوں پر مشتمل ہو اور (ہر گواہی میں) وہ یہ کہے کہ وہ راستبازوں میں سے ہے۔اور پانچویں (گواہی) میں (کہے) کہ اس پر خدا کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔اور اُس بیوی سے (جس پر اُس کا خاوند الزام لگائے) اُس کا اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیاں دینا کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے عذاب دُور کر دے گا۔اور پانچویں (قسم) اس طرح کھائے ) کہ اللہ کا غضب اُس (عورت) پر نازل ہو اگر وہ ( الزام لگانے والا خاوند ) سچا ہے۔فَإِذَا قَذَفَ الْأَخْرَسُ امْرَأَتَهُ بِكِتَابَةٍ اگر گونگا اپنی بیوی پر لکھ کر یا ہاتھ کے اشارے أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ إِيْمَاءٍ مَعْرُوْفِ فَهُوَ سے یا آنکھ کے اشارہ سے جو سمجھ میں آئے الزام