صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 249
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۴۹ ۶۸ - کتاب الطلاق كَالْمُتَكَلِّم لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لگائے تو یہ بھی بولنے والے کی طرح ہو گا کیونکہ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَازَ الْإِشَارَةَ فِي الْفَرَائِضِ في صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضوں کے ادا کرنے وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلَ میں اشارہ کو جائز قرار دیا۔اور یہی بعض حجاز الْعِلْمِ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ والے اور اہل علم کہتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مریم نے ان کو اشارہ سے بتایا تو وہ کہنے قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ لگے : ہم اس سے کیونکر بات کریں جو گہوارے صبيان (مريم : ٣٠) وَقَالَ الضَّحَّاكُ میں ابھی بچہ ہی ہے۔اور ضحاک نے کہا: رمزا الا رمزا (آل عمران: ٤٢) إِشَارَةً وَقَالَ سے مراد اشارہ ہے۔اور بعض لوگوں نے کہا کہ بَعْضُ النَّاسِ لَا حَدَّ وَلَا لِعَانَ ثُمَّ اشارہ سے نہ حد پڑتی ہے اور نہ لعان ہوتا ہے۔زَعَمَ أَنَّ الطَّلَاقَ بِكِتَابِ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ پھر انہوں نے اپنے خیال سے کہہ دیا کہ طلاق لکھ إِيْمَاءٍ جَائِزٌ۔وَلَيْسَ بَيْنَ الطَّلَاقِ کریا ہاتھ کے اشارہ سے یا آنکھ کے اشارہ سے جائز وَالْقَذْفِ فَرْقٌ۔فَإِنْ قَالَ الْقَذْفُ لَا ہوتی ہے۔حالانکہ طلاق اور قذف میں کوئی فرق يَكُوْنُ إِلَّا بِكَلَام قِيلَ لَهُ كَذَلِكَ نہیں۔اگر یہ کہیں کہ قذف صرف کلام سے ہی ہوتی ہے تو انہیں کہا جائے کہ اسی طرح طلاق الطَّلَاقُ لَا يَجُوْزُ إِلَّا بِكَلَامِ وَإِلَّا بھی جائز نہیں ہوتی مگر کلام سے ہی، ورنہ طلاق بَطَلَ الطَّلَاقُ وَالْقَذْفُ وَكَذَلِكَ الْعِتْقُ اور قذف دونوں باطل ہوں گے۔اسی طرح پر وَكَذَلِكَ الْأَصَمُّ يُلاعِنُ وَقَالَ آزاد کرنا بھی، اسی طرح بہرے کی بھی حالت الشَّعْبِيُّ وَقَتَادَةُ إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ہو گی جو لعان کرتا ہے۔شعی اور قتادہ نے کہا: اگر فَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ تَبِيْنُ مِنْهُ بِإِشَارَتِهِ۔کوئی اپنی بیوی سے) کہے تجھے طلاق ہے اور اپنی وَقَالَ إِبْرَاهِيْمُ الْأَخْرَسُ إِذَا كَتَبَ انگلیوں سے اشارہ کر کے بتائے تو وہ عورت اس الطَّلَاقَ بِيَدِهِ لَزِمَهُ وَقَالَ حَمَّادٌ کے اشارہ سے قطعی طور پر الگ ہو جائے گی۔اور ر الْأَخْرَسُ وَالْأَصَمُّ إِنْ قَالَ بِرَأْسِهِ ابراہیم (شخصی) نے کہا: گونگا اگر اپنے ہاتھ سے طلاق لکھے تو یہ طلاق اس کو لازم ہو جائے گی۔اور جَازَ حماد نے کہا: گونگا یا بہرا اگر اپنے سر کے اشارہ سے کہے تو جائز ہے۔