صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 247
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ کتاب الطلاق التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ سليمان شیخی سے سلیمان نے ابو عثمان (نہدی) سے، بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ ابو عثمان نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ أَوْ ن فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی نداء یا فرمایا: قَالَ أَذَانُهُ مِنْ سَحُوْرِهِ فَإِنَّمَا يُنَادِي اس کی اذان اپنی سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ وہ صرف اس لئے پکارتا ہے یا فرمایا: اس لئے اذان دیتا ہے تا کہ جو تم میں سے کھڑا نماز پڑھ رہا ہو أَنْ يَقُوْلَ كَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوِ کوٹ جائے۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ گویا الْفَجْرَ وَأَظْهَرَ يَزِيْدُ يَدَيْهِ ثُمَّ مَدَّ وہ وقت صبح کا ہے یا ( فرمایا:) فجر کا ہے (جو روشنی اس طرح لمبی ظاہر ہوتی ہے۔) یزید (راوی) نے إِحْدَاهُمَا مِنَ الْأُخْرَى۔أطرافه: ٦٢١ ٧٢٤٧۔اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے پھر ایک کو دوسرے سے کھینچ کر الگ لے گئے۔٥٢٩٩ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ :۵۲۹۹ اور لیث (بن سعد) نے کہا کہ جعفر بن بْنُ رَبِيْعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ربیعہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن بن ہرمز سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ سے ، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ سے سنا۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْبَخِيْلَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال دو شخصوں کی ہے جنہوں نے اپنی چھاتی سے لے کر اپنی جنسی تک لوہے کے جسے پہنے ہوئے ہوں۔وہ جو خرچ کرنے والا ہے تو وہ جو بھی خرچ کرتا ہے تو وہ جبہ إِلَّا مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ اس کے جسم پر لمبا ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَأَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا اس کے سارے جسم کو انگلیوں تک ڈھانپ لیتا يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلَّا لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ ہے۔اور اس کے قدم کے نشان کو پیچھے سے مٹاتا وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَّدُنْ تَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيْهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ شَيْئًا