صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 241 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 241

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۴۱ بَاب ۲۳ : الظُّهَارُ ۶۸ - كتاب الطلاق ظہار (یعنی اپنی بیوی کو ماں کہہ بیٹھنا) وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اللہ نے اس عورت کی دعا الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا إِلَى قَوْلِهِ سن لی، جو اپنے خاوند کے متعلق تجھ سے بحث کرتی فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِيعُ فَاطْعَامُ سِتِّينَ تھی اور اللہ سے فریاد کرتی تھی، اور اللہ تم دونوں کی بحث سن رہا تھا۔ اللہ یقیناً بہت سننے والا (اور ) مسكينا ۔ (المجادلة: ٢-٥) دیکھنے والا ہے۔ (سو یاد رکھو کہ) تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں تو اس کہنے سے وہ اُن کی مائیں نہیں ہو جاتیں، اُن کی مائیں وہی ہیں جنہوں نے اُن کو جنا ہے اور (جو کچھ وہ غلطی سے کہہ بیٹھتے ہیں اُن کی نسبت یہی کہا جا سکتا ہے کہ ) وہ ایک ناپسندیدہ اور جھوٹ بات کہتے ہیں اور اللہ یقیناً بہت معاف کرنے والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔ اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں پھر اس کے بعد ( با وجود خدا تعالیٰ کے منع کرنے کے) جو کچھ انہوں نے کہا تھا اُس کی طرف لوٹ کے آتے ہیں اُن کے لیے ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ وہ دونوں (یعنی میاں بیوی) ایک دوسرے کو چھوئیں ایک غلام آزاد کریں، یہ وہ (بات) ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب آگاہ ہے۔ اور جو شخص (غلام) نہ پائے وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے پیشتر اس کے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں اور جس میں یہ طاقت بھی نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔