صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 242
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۴۲ ۶۸ - کتاب الطلاق وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ أَنَّهُ اور اسماعیل (بن ابی اُویس) نے مجھ سے بیان کیا سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ ظِهَارِ الْعَبْدِ که مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے فَقَالَ نَحْوَ ظِهَارِ الْحُرِّ قَالَ مَالِكٌ غلام کے ظہار کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کہا: وہ وَصِيَامُ الْعَبْدِ شَهْرَانِ وَقَالَ الْحَسَنُ بھی آزاد کے ظہار کی طرح ہی ہے۔مالک نے کہا بْنُ الْحُرِ ظِهَارُ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ مِنَ اور غلام دو مہینے روزے رکھے۔اور حسن بن حرنے الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءٌ وَقَالَ عِكْرِمَهُ إِنْ کہا کہ آزاد مرد اور غلام کا آزاد عورت اور لونڈی ظَاهَرَ مِنْ أُمَتِهِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ إِنَّمَا کے متعلق ظہار کرنا ایک ہی ہے۔اور عکرمہ نے کہا: اگر تو اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو کوئی کفارہ الظُّهَارُ مِنَ النِّسَاءِ وَفِي الْعَرَبِيَّةِ لِمَا قَالُوْا أَيْ فِيْمَا قَالُوْا وَفِي نَقْضِ مَا نہیں۔ظہار تو صرف آزاد عورتوں سے ہی ہوتا ہے۔اور عربی زبان میں لام فی کے معنوں میں قَالُوْا وَهَذَا أَوْلَى لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ آتا ہے جیسے ) لِمَا قَالُوا کے معنی ہیں فِيمَا قَالُوا يَدُلُّ عَلَى الْمُنْكَرِ وَقَوْلِ الزُّوْرِ۔یعنی اس بات کی وجہ سے جو انہوں نے کہی۔ما سے مراد بعض کلمات ہیں جو انہوں نے بولے۔اور یہ (ترجمہ) زیادہ مناسب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ناپسندیدہ بات اور جھوٹے قول کا نام نہیں لیا۔باب ٢٤: الْإِشَارَةُ فِي الطَّلَاقِ وَالْأُمُوْرِ طلاق میں اور دوسرے اُمور میں اشارہ کرنا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور حضرت ابن عمر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُعَذِّبُ اللهُ بِدَمْعِ نے فرمایا: آنکھ کے آنسو کی وجہ سے اللہ سزا نہیں الْعَيْنِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا فَأَشَارَ إِلَى دے گا لیکن اس کی وجہ سے سزا دے گا۔آپ لِسَانِهِ۔وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكِ أَشَارَ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔اور حضرت 1 اصیلی اور کشمیپنی میں نقص کی بجائے "بغض“ کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزء۹ صفحه ۵۳۸،۵۳۷) ترجمه اس کے مطابق ہے۔