صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 240
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۴۰ ۶۸ - کتاب الطلاق وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ مشکیزہ اس کے پاس ہے۔پانی پیتا ہے، درختوں وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا وَعَرِفْهَا سَنَةٌ فَإِنْ سے چرتا ہے جب تک کہ اُس کا مالک اُس سے نہ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا وَإِلَّا فَاخْلِطْهَا مل جائے؛ اور آپ سے گری پڑی چیز سے متعلق بِمَالِكَ۔قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيْتُ رَبِيْعَةَ پوچھا گیا۔آپ نے فرمایا: اس کا سر بندھن اور بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سُفْيَانُ وَلَمْ تھیلا پہچان رکھو اور ایک برس تک اس کی شناخت أَحْفَظْ عَنْهُ شَيْئًا غَيْرَ هَذَا فَقُلْتُ کرواتے رہو۔اگر تو وہ آ گیا جو اُس کو پہچانتا ہے أَرَأَيْتَ حَدِيثَ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ( تو بہتر ورنہ اُس کو اپنے مال میں ملا لو۔سفیان فِي أَمْرِ الضَّالَّةِ هُوَ عَنْ زَيْدِ بْن خَالِدٍ بن عيينه ) نے کہا: پھر میں ربیعہ بن ابی عبد الرحمن قَالَ نَعَمْ۔قَالَ يَحْيَى وَيَقُوْلُ رَبِيْعَةُ سے ملا۔سفیان نے کہا: اور میں نے ربیعہ سے عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ سوائے اس حدیث کے اور کچھ یاد نہیں رکھا۔میں خَالِدٍ قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيْتُ رَبَيْعَةَ نے (ان سے) پوچھا: بتائیں یہ جو منبعث کے غلام یزید کی حدیث گمشدہ چیز کے متعلق ہے، آیا وہ فَقُلْتُ لَهُ۔حضرت زید بن خالد سے مروی ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔(سفیان کہتے تھے کہ) يحي نے کہا: ربیعہ نے مثبعث کے غلام یزید سے روایت کی۔یزید ، حضرت زید بن خالد سے اس کو موصولاً روایت کرتے ہیں۔سفیان کہتے تھے: اس پر میں ربیعہ سے ملا اور میں نے اُن سے پوچھا۔أطرافه: ۹۱، ۲۳۷۲ ،۲٤۲۷، ٢٤۲۸، ٢٤٢٩، ٢٤٣٦ ، ٢٤٣٨، ٦١١٢-