صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 239 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 239

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۳۹ ۶۸ - كتاب الطلاق فَإِنْ أَتَى فُلَانٌ فَلِي وَعَلَيَّ وَقَالَ ایک دو دو درہم کر کے دینے لگے اور کہتے: اے هَكَذَا فَافْعَلُوْا بِاللُّقَطَةِ۔ وَقَالَ اللہ ! فلاں کی طرف سے یہ صدقہ قبول کر۔ اور ابْنُ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ۔ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِي اگر وہ آگیا تو یہ (صدقہ ) میری طرف سے ہو گا۔ الْأَسِيْرِ يُعْلَمُ مَكَانُهُ لَا تَتَزَوَّجُ امْرَأَتُهُ اور (اس لونڈی کی قیمت) مجھ پر واجب ہو گی۔ وَلَا يُقْسَمُ مَالُهُ فَإِذَا انْقَطَعَ خَبَرُهُ اور انہوں نے کہا: اسی طرح گری پڑی چیز کے متعلق بھی کرو۔ اور حضرت ابن عباس نے بھی فَسُنَّتُهُ سُنَّةُ الْمَفْقُوْدِ۔ ایسا ہی کہا۔ زہری نے اس قیدی سے متعلق جس کا ٹھکانہ معلوم ہو، کہا ہے: اُس کی بیوی نکاح نہ کرے ے اور نہ ہی کا ر نہ ہی اس کی جائید او تقسیم کی جائے۔ اور اگر اس کی خبر آئی بند ہو جائے تو اُس کے متعلق وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو طریقہ مفقود الخبر انسان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ٥٢٩٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۵۲۹۲: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بچی عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ أَنَّ النَّبِيَّ بن سعيد (انصاری) سے، بچی نے یزید سے جو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ مُبعث کے غلام تھے، روایت کی کہ نبی صلی اللہ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے متعلق پوچھا گیا۔ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذَّنْبِ۔ وَسُئِلَ آپؐ نے فرمایا: اُسے لے لو کیونکہ وہ یا تمہارے عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ لئے ہے یا تمہارے بھائی کے لئے یا بھیڑیئے کے وَجْنَتَاهُ وَقَالَ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا لئے۔ اور آپ سے گمشدہ اُونٹ کے متعلق پوچھا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَشْرَبُ الْمَاءَ گیا۔ آپ ناراض ہوئے اور آپ کے رخسار سرخ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ۔ ہو گئے اور فرمایا: تمہیں اس سے کیا تعلق؟ جوتا اور