صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 232 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 232

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ - کتاب الطلاق جَاءَتْ إِلَى الْمُسْلِمِيْنَ أَيْعَاوَضُ کہ وہ اپنے نکاح پر ہی رہیں گے اور اگر ان میں زَوْجُهَا مِنْهَا لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَاتُوهُمْ ما سے ایک اپنے ساتھی سے پہلے مسلمان ہو ا ہو اور أَنْفَقُوا (الممتحنة: ١١) قَالَ لَا إِنَّمَا دوسرے نے انکار کر دیا ہو تو قطعی طور پر جدائی ہو گئی۔اُس شخص کو اُس پر کوئی اختیار نہیں۔اور كَانَ ذَلِكَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء بن ابی رباح) وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَهْلِ الْعَهْدِ وَقَالَ سے پوچھا کہ مشرکوں میں سے ایک عورت مُجَاهِدٌ هَذَا كُلُّهُ فِي صُلْحٍ بَيْنَ مسلمانوں کے پاس چلی آئے تو کیا اُس کے خاوند صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ کو اُس کا معاوضہ دیا جائے گا۔اسلئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اُن کو دو جو انہوں نے خرچ کیا۔عطاء نے کہا: نہیں، یہ تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان مشرکوں کے درمیان تھا جنہوں نے عہد کیا ہوا تھا۔اور مجاہد نے کہا: یہ سب اس صلح میں تھا جو نبی قُرَيْشٍ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان ہوئی۔٥٢٨٨: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۵۲۸۸: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ ح۔ابن شہاب سے۔وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي اور ابراہیم بن منذر نے یوں کہا کہ ابن وہب نے ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ قَالَ مجھ سے بیان کیا کہ یونس نے مجھے بتایا۔ابن شہاب ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتِ کہتی تھیں : مومن عورتیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِي کے پاس ہجرت کر کے آئیں تو آپ اللہ تعالیٰ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُهُنَّ اس قول سے اُن کی آزمائش کرتے: اے مومنو!