صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 233 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 233

صحیح البخاری جلد ۱۳ ٣٣٣ ۶۸ - کتاب الطلاق بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنتُ مُهجرت فَامْتَحِنُوهُنَّ آئیں، تو اُن کو اچھی طرح آزما لیا کرو۔اللہ اُن (الممتحنة: ١١) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ۔کے ایمان کو خوب جانتا ہے لیکن اگر تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو اُن کو کافروں کی طرف مت لوٹاؤ۔نہ وہ اُن (کافروں) کے لیے جائز ہیں اور نہ وہ (کافر) اُن (عورتوں) کے لیے جائز ہیں۔اور چاہیے کہ کفار نے جو اُن (عورتوں کے نکاح) پر خرچ کیا ہو وہ اُن کو واپس کر دو۔اور (جب تم ان عورتوں کو کفار سے فارغ کر والو تو) اُن کے معاوضے (یعنی مہر ) ادا کرنے کی صورت میں اگر تم اُن سے شادی کر لو تو تم پر کوئی اعتراض نہیں اور کا فرعورتوں کے ننگ و ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے اُن پر خرچ کیا ہے (اگر وہ بھاگ کر کفار کی طرف چلی جائیں تو ) کفار سے مانگو۔اور (اگر کفار کی بیویاں مسلمان ہو کر مسلمانوں سے آملیں تو) جو کچھ انہوں نے (اپنے نکاحوں پر) خرچ کیا ہے مسلمانوں سے مانگیں۔یہ تمہیں اللہ کا ارشاد ہے۔وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔اور اللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں : جو مومن عورتیں اس الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ شرط کا اقرار کر لیتیں تو گویا وہ امتحان میں پوری بِالْمِحْنَةِ فَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله اترتیں۔جب وہ اپنے قول سے اس کا اقرار کر