صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 231 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 231

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۳۱ ۶۸ - کتاب الطلاق غَنْمٍ الْفِهْرِي فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا نکاح میں تھی اور انہوں نے اُس کو طلاق دے دی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ التَّقَفِيُّ۔اور عبد اللہ بن عثمان ثقفی نے اُس سے نکاح کر لیا۔بَاب ٢٠: إِذَا أَسْلَمَتِ الْمُشْرِكَةُ أَوِ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الذَّمِّيِّ أَوِ الْحَرْبِي اگر مشرک یا نصرانی عورت جو ذقی یا حربی (کافر) کے نکاح میں ہو مسلمان ہو جائے وَقَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ اور عبد الوارث (بن سعید) نے خالد (حذاء) عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ إِذَا أَسْلَمَتِ سے خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت النَّصْرَانِيَّةُ قَبْلَ زَوْجِهَا بِسَاعَةٍ حَرُمَتْ ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے کہا: اگر نصرانی عورت اپنے خاوند سے ایک گھڑی پہلے عَلَيْهِ وَقَالَ دَاوُدُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مسلمان ہو جائے تو وہ اپنے خاوند پر حرام ہو جائے الصَّائِعِ سُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ گی۔اور داؤد ( بن ابی فرات) نے ابراہیم صائغ أَهْلِ الْعَهْدِ أَسْلَمَتْ ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا سے نقل کیا کہ عطاء بن ابی رباح ) سے اُس عورت فِي الْعِدَّةِ أَهِيَ امْرَأَتُهُ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ کے متعلق پوچھا گیا جو مشرکوں میں سے ہو اور وہ تَشَاءَ هِيَ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ وَصَدَاقٍ مسلمان ہو جائے پھر اُس کا خاوند عدت میں ہی وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِذَا أَسْلَمَ فِي الْعِدَّةِ مسلمان ہو جائے تو کیا وہ اُس کی بیوی رہے گی؟ يَتَزَوَّجُهَا وَقَالَ اللهُ تَعَالَى لَاهُنَّ حِلٌّ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ وہ چاہے لَّهُمْ وَلَاهُمْ يَحِلُوْنَ لَهُنَّ (الممتحنة: ١١) تو نئے نکاح اور نئے مہر کے ساتھ ہو سکتی ہے۔اور مجاہد نے کہا کہ اگر وہ شخص عدت میں ہی مسلمان ہو جائے تو وہ اُس سے نکاح کرلے۔اور اللہ تعالیٰ وَقَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ فِي مَجُوسِيَّيْنِ أَسْلَمَا هُمَا عَلَى نِكَاحِهِمَا وَإِذَا سَبَقَ نے فرمایا: نہ وہ اُن (کافروں) کے لیے جائز ہیں أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَأَبَى الْآخَرُ بَانَتْ اور نہ وہ (کافر) ان (عورتوں) کے لیے جائز ہیں۔لَا سَبِيْلَ لَهُ عَلَيْهَا۔وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ اور حسن (بصری) اور قتادہ نے اُن دو پارسیوں قُلْتُ لِعَطَاءٍ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (عورت و مرد ) کے متعلق کہا کہ جو مسلمان ہوئے