صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 219
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۹ باب ۱۲: الْخُلْعُ وَكَيْفَ الطَّلَاقُ فِيْهِ خلع اور اس میں طلاق کیونکر ہو ۶۸ - کتاب الطلاق وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور تمہارے لیے اس (مال) ان تَأخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَى کا جو تم انہیں پہلے دے چکے ہو کوئی حصہ بھی قَوْلِهِ الظَّلِمُونَ (البقرة: ۲۳۰) (واپس) لینا جائز نہیں۔سوائے اس (صورت) کے کہ اُن (دونوں) کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی ( مقرر کردہ) حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔سو اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ (دونوں) اللہ کی ( مقرر کردہ) حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو وہ (عورت) جو کچھ بطور فدیہ دے اس کے بارہ میں اُن (دونوں میں سے کسی) کو کوئی گناہ نہ ہو گا۔یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اس لیے تم ان سے باہر نہ نکلو اور جو لوگ اللہ کی (مقرر کردہ) حدوں سے باہر نکل جائیں تو (سمجھ لو کہ) وہی لوگ (اصل) ظالم ہیں۔وَأَجَازَ عُمَرُ الْخُلْعَ دُوْنَ السُّلْطَانِ اور حضرت عمر نے حاکم کے بغیر خلع کو جائز قرار وَأَجَازَ عُثْمَانُ الْخُلْعَ دُوْنَ عِقَاصِ دیا۔اور حضرت عثمان نے اگر عورت سوائے سر رَأْسِهَا۔وَقَالَ طَاؤس إِلا أَن يَخَافَا کے جوڑے کے سبھی کچھ دے کر خلع لینا چاہے تو اَلَّا يُقِيْمَا حُدُودَ اللهِ (البقرة: ۲۳۰) اسے جائز قرار دیا۔اور طاؤس نے کہا: الا ان فِيْمَا افْتَرَضَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى يَخَافَا اللَّا يُقِيْمَا حُدُودَ اللَّهِ سے یہ مراد ہے کہ صَاحِبِهِ فِي الْعِشْرَةِ وَالصُّحْبَةِ وَلَمْ ہم نے جو فرائض حسن معاشرت اور صحبت کے يَقُلْ قَوْلَ السُّفَهَاءِ لَا يَحِلُّ حَتَّى متعلق ان میں سے ہر ایک پر مقرر کئے ہیں وہ ادا