صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 218
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۸ ۶۸ - كتاب الطلاق ” وہ صاحب اپنی نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں جو کچھ زوجہ اول کو دیویں وہی اسے دیویں۔ ایک شب اُدھر رہیں تو ایک شب ادھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اُسے زوجہ اول کا دست نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔“ ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پیشتر کئی سال ہوئے گزر چکا ہے کہ ایک صاحب نے حصول اولاد کی نیت سے نکاح ثانی کیا اور بعد نکاح رقابت کے خیال سے زوجہ اول کو جو صدمہ ہوا۔ اور نیز خانگی تنازعات نے ترقی پکڑی تو انہوں نے گھبرا کر زوجہ ثانی کو طلاق دے دی۔ اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی ظاہر فرمائی۔ چنانچہ اس خاوند نے پھر اس زوجہ کی طرف میلان کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا۔ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۳۴۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبد الکریم کو خُذُوا الرفق الرفق فَإِنَّ الرِّفْقَ رَأْسُ الْخَيْرَاتِ نرمی کرو نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔ اخویم مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنی بیوی سے کسی قدر زبانی سختی کا برتاؤ کیا تھا اس پر حکم ہوا کہ اس قدر سخت گوئی نہیں چاہئے ۔ “ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۷۵) اس کے حاشیہ میں حضور تحریر فرماتے ہیں: ” اس الہام میں تمام جماعت کیلئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آدیں وہ اُن کی کنیز کیں نہیں ہیں۔ در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء: (۲۰) یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی کرو۔ اور حدیث میں ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِہ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ اُن کے لئے دُعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔“ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ حاشیہ صفحہ ۷۵)