صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 220
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۲۰ ۶۸ - كتاب الطلاق تَقُوْلَ لَا أَغْتَسِلُ لَكَ مِنْ جَنَابَةٍ۔ نہ کر سکے۔ اور طاؤس نے ان بے وقوف لوگوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ (خلع) اس وقت تک جائز نہیں کہ جب تک عورت یہ نہ کہے کہ تمہارے لئے غسل جنابت ہی نہیں کرتی۔ ٥٢٧٣ : حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيْلٍ ۵۲۷۳: از ہر بن جمیل نے ہمیں بتایا کہ عبد الوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا ثقفی نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء) نے خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ (انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا کہا:) ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یارسول اللہ! تا اللہ ! ثابت بن عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِيْنِ وَلَكِنِّي أَكْرَہ میں پر میں کسی اخلاق یا دین کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار نہیں کرتی لیکن میں مسلمان رہ کر خاوند الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ کی ناشکر گزاری کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرُدِّيْنَ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اُسے اُس کا باغ حَدِيْقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ۔ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ واپس کر دوگی؟ اس نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلِ الْحَدِيْقَةَ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ کو لے لو اور اُسے طلاق وَطَلَّقْهَا تَطْلِيْقَةً۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَا يُتَابَعُ فِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ أطرافه : ٥٢٧٤، ٥٢٧٥، ٥٢٧٦، ٥٢٧٧۔ دے دو۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: ازہر بن جمیل) کی حضرت ابن عباس کے بارے میں متابعت نہیں کی گئی ۔ ٥٢٧٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ۵۲۷۴: اسحاق (بن شاہین) واسطی نے مجھ سے حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَاءِ عَنْ بیان کیا کہ خالد بن عبد اللہ ) نے ہمیں بتایا۔ عِكْرِمَةَ أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَي انہوں نے خالد حذاء سے، حذاء نے عکر نے عکرمہ سے