صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 212
صحیح البخاری جلد ۱۳ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوْمُ حَمْزَةَ فَإِذَا حَمْزَةُ فَمِلْ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ۔ثُمَّ قَالَ ۲۱۲ ۶۸ - کتاب الطلاق الْمُوَسْوَسِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ جس نے اپنے گناہ کا اقرار کیا تھا: کیا تمہیں جنون أَبِكَ جُنُونٌ وَقَالَ عَلِيٌّ بَقَرَ حَمْزَةُ ہے؟ اور حضرت علی نے کہا: حمزہ نے میری دونوں خَوَاصِرَ شَارِفَيَّ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اونٹنیوں کے پیٹ پھاڑ ڈالے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کو ملامت کرنے لگے تو کیا دیکھا حمزہ نشے میں چور ہے اور اُس کی آنکھیں سرخ ہیں۔پھر حمزہ نے یہ جواب دیا: تم میرے باپ کے غلام حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي ہی ہو ناں۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ وہ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نشے میں چور ہے۔آپ یہ سن کر باہر چلے گئے تو أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ۔ہم بھی آپ کے ساتھ نکل گئے۔وَقَالَ عُثْمَانُ لَيْسَ لِمَجْنُوْنٍ وَلَا اور حضرت عثمان نے فرمایا: مجنون اور شراب سے لِسَكْرَانَ طَلَاقٌ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مست کی طلاق نہیں ہوتی۔اور حضرت ابن عباس طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَالْمُسْتَكْرَهِ لَيْسَ نے کہا: شراب سے مدہوش انسان کی اور اس کی بِجَائِرٍ۔وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ لَا طلاق جس کو مجبور کیا جارہا ہے، جائز نہیں۔اور يَجُوْزُ طَلَاقُ الْمُوَسْوَس۔وَقَالَ حضرت عقبہ بن عامر (جہنی) نے کہا: وسوسہ عَطَاءٌ إِذَا بَدَا بِالطَّلَاقِ فَلَهُ شَرْطُهُ کرنے والے کی طلاق جائز نہیں۔اور عطاء نے کہا: اگر کسی نے پہلے طلاق کا نام لیا (اور اس کے بعد شرط لگائی یعنی اگر تو نے ایسا کیا ) تو وہ طلاق اپنی شرط کے مطابق ہی ہوگی۔اور نافع نے وَقَالَ نَافِعٌ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ الْبَيَّةَ إِنْ خَرَجَتْ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ خَرَجَتْ فَقَدْ بُتْ مِنْهُ وَإِنْ لَّمْ تَخْرُجْ فَلَيْسَ (حضرت ابن عمر سے) پوچھا: ایک شخص نے اپنی بِشَيْءٍ۔وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِيْمَنْ قَالَ إِنْ بيوى كو قطعی طلاق دے دی ہو یعنی یہ کہا ہو اگر بیوی کو لَّمْ أَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَامْرَأَتِي طَالِقٌ وہ باہر گئی تو پھر اسے طلاق بتہ ہے، تو حضرت ثَلَاثًا يُسْأَلُ عَمَّا قَالَ وَعَقَدَ عَلَيْهِ ابن عمرؓ نے فرمایا: اگر وہ باہر گئی تو وہ اس سے قطعی قَلْبُهُ حِيْنَ حَلَفَ بِتِلْكَ الْيَمِيْنِ فَإِنْ طور پر علیحدہ ہو گئی اور اگر باہر نہ گئی تو کچھ بھی