صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 211 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 211

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۱ ۶۸ کتاب الطلاق کوئی قانونی حیثیت ہو گی۔عنوانِ باب میں امام بخاری نے جو الفاظ دیئے ہیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب اس قصہ کے الفاظ ہیں جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنی بیوی سارہ کے متعلق بہن کہنے کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ قصہ اپنی ذات میں خلاف واقعہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت اور شان کے خلاف ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بائیل ابراہیم کو جھوٹا قرار دیتی ہے۔پس چونکہ بائبل میں ابراہیم کو صدیق نہیں بتایا گیا بلکہ اس کی طرف یہ جھوٹ منسوب کیا گیا ہے کہ اس نے بادشاہ سے ڈر کر اپنی بیوی کو بہن کہا اور اپنی بیوی سے بھی یہی کہا کہ تو مجھے اپنا بھائی کہنا۔اس لئے فرماتا ہے کہ تو ابراہیم کو اس شکل میں پیش کر جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے نہ کہ اس شکل میں جو بائبل میں بیان کی گئی ہے۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ بیان بالکل غلط ہے إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّان (مریم : ۲۲) ابراہیم صدیق بھی تھا اور نبی بھی تھا۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ مریم زیر آیت واذكر في الكتب إبرهيم۔۔جلد ۵ صفحه ۲۶۰) امام بخاری نے روایت میں بیان اس قصہ کے الفاظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ مجبوراً نہ کسی کو طلاق دلائی جا سکتی ہے اور نہ رشتہ ازدواج قائم کیا جا سکتا ہے۔باب ١١ : الطَّلَاقُ فِي الْإِخْلَاقِ وَالْكُرْهِ وَالسَّكْرَانُ وَالْمَجْنُوْنُ تالوں میں بند کر کے اور جبراً طلاق دلوانا اور شراب سے مست شخص اور مجنون کا طلاق دینا اور ان دونوں کے متعلق حکم وَأَمْرُهُمَا وَالْغَلَطُ وَالنِّسْيَانُ فِي نيز طلاق میں غلطی کرنا اور بھولنا اور مشرکانہ بات الطَّلَاقِ وَالشِّرْكِ وَغَيْرِهِ لِقَوْلِ النَّبِي کرنا وغیرہ۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ فرمایا ہے کہ اعمال تو نیتوں پر ہیں اور ہر ایک شخص کو وہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی ہوتی ہے۔وَلِكُلّ امْرِئٍ مَا نَوَى وَتَلَا الشَّعْبِيُّ اور شیعی نے یہ آیت پڑھی: اگر کبھی ہم بھول لا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانَا جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں سزا نہ دیجیو۔اور (البقرة: ٢٨٧) وَمَا لَا يَجُوزُ مِنْ إِقْرَارِ وسوسہ کرنے والے کا اقرار کر لینا بھی صحیح نہیں۔