صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 213 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 213

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۳ ۶۸ - کتاب الطلاق قَوْمِ بِلِسَانِهِمْ۔سَمَّى أَجَلًا أَرَادَهُ وَعَقَدَ عَلَيْهِ قَلْبُهُ نہیں۔اور زہری نے ایسے شخص سے متعلق کہا جس حِيْنَ حَلَفَ جُعِلَ ذَلِكَ فِي دِيْنِهِ نے یوں کہا ہو اگر میں ایسا ایسا نہ کروں تو میری وَأَمَانَتِهِ۔وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنْ قَالَ لَا بیوی پر تین طلاقیں ہیں۔تو اس سے ان الفاظ کے حَاجَةَ لِي فِيْكِ نِيَّتُهُ۔وَطَلَاقُ كُل متعلق پوچھا جائے جو اس نے کہے تھے۔آیا جب اس نے قسم کھائی تھی تو کیا دل کی نیت سے مدت معین کر کے) قسم کھائی تھی۔اگر وہ کسی معین مدت کا نام لے جس کا اس نے ارادہ کیا تھا اور جس کے متعلق اس نے پختہ نیت کی تھی جبکہ اس نے قسم کھائی تھی تو اس کے متعلق فیصلہ اس کے دین اور امانت پر کیا جائے۔اور ابراہیم نے کہا: اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے اب تیری ضرورت نہیں تو اس میں اُس کی نیت کو ہی ملحوظ رکھا جائے گا۔اور ہر ایک قوم کی طلاق انہی کی زبان میں ہو گی۔وَقَالَ قَتَادَةُ إِذَا قَالَ إِذَا حَمَلْتِ اور قتادہ نے کہا: جب کوئی کہے اگر تو حاملہ ہوگی تو فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا يَغْشَاهَا عِنْدَ كُلّ تمہیں تین طلاقیں۔اور وہ اس سے ہر طہر میں مَرَّةً فَإِنِ اسْتَبَانَ حَمْلُهَا فَقَذَ ایک مرتبہ ازدواجی تعلق قائم کرے۔اگر حمل بَانَتْ مِنْهُ وَقَالَ الْحَسَنُ إِذَا قَالَ ظاہر ہو جائے تو پھر وہ اس سے قطعی طور پر الگ ہو چکی۔اور حسن (بصری) نے کہا: اگر کوئی کہے کہ الْحَقِي بِأَهْلِكِ نِيَّتُهُ۔اپنے رشتہ داروں سے جاملو تو اس میں بھی اس کی نیت ہی ملحوظ ہو گی۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الطَّلَاقُ عَنْ وَّطَرٍ اور حضرت ابن عباس نے کہا: طلاق تو انتہائی وَالْعَتَاقُ مَا أُرِيْدَ بِهِ وَجْهُ اللهِ۔وَقَالَ ضرورت کے وقت دی جاتی ہے۔اور غلام کو آزاد الزُّهْرِيُّ إِنْ قَالَ مَا أَنْتِ بِامْرَأَتِي نِيَّتُهُ کرنا تو اللہ کی رضا مندی کے لئے ہوتا ہے۔اور وَإِنْ نَوَى طَلَاقًا فَهُوَ مَا نَوَى وَقَالَ زُہری نے کہا: اگر کوئی کہے تو میری بیوی نہیں تو