صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 210
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۰ ۶۸ - كتاب الطلاق میں بھی آئی ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اس مضمون کی روایت بیان کی ہے : لا طَلَاقَ فِيمَا لَا تَمْلِكُونَ وَلَا عناق فيمَا لَا تَمْلِكُونَ وَلَا نَذَرَ فِيمَا لَا الا تَمْلِكُونَ وَلَا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ اللہ ! جس عورت کے تم مالک نہیں اُسے تم طلاق نہیں دے سکتے اور جس غلام کے مالک نہیں اُسے آزاد نہیں کر سکتے اور جس چیز کے مالک نہیں اس کے متعلق نذر نہیں۔ اور اللہ کی نافرمانی کی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں۔ امام بخاری نے ان روایات کے مضمون کو لے کر یہ بیان کیا ہے کہ نکاح مرد اور عورت کے درمیان طے پانے والا وہ معاہدہ ہے جس میں دونوں خاندان و دیگر افرادِ معاشرہ گواہ بنتے ہیں۔ جب تک یہ معاہدہ طے پا کر اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچے اس وقت تک کسی فریق کا دوسرے کے متعلق علیحدگی کا اعلان ایساہی ہے جیسے کوئی شخص ایسے غلام کی آزادی کا اعلان کر رہا ہو جو اس کی ملکیت میں ہی نہیں ہے۔ تاہم امام بخاری نے اس باب سے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت سے متعلق رشتہ ازدواج میں با قاعدہ منسلک ہونے سے پہلے یہ بات کر دے کہ اگر فلاں عورت سے میرا نکاح ہو بھی گیا تو میں اُسے طلاق دے دوں گا۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس مرد اور اس عورت کا نکاح ہو جائے تو اس مرد کی وہ بات جو اُس نے قبل از نکاح کہی تھی، کیا طلاق شمار ہو گی یا نہیں ؟ امام بخاری نے عنوان باب اور قرآن کریم کی اس آیت (الاحزاب:۵۰) سے یہ ثابت کیا ہے کہ قبل از نکاح طلاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے، سوائے اس کے کہ مرد اپنی اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے نکاح ، بعد با قاعدہ طلاق دیدے تو طلاق شمار ہو گی۔ ورنہ قبل از وقت کی گئی بات ہر گز نتیجہ خیز نہیں ہو گی۔ اور نہ ہی اس کے عقدہ نکاح پر اس کا کوئی اثر پڑے گا۔ باب ۱۰ : إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُكْرَةٌ هَذِهِ أُخْتِي فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ اگر کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ یہ میری بہن ہے اور وہ مجبور ہو تو اس سے کچھ نقصان نہیں قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم إِبْرَاهِيمُ لِسَارَةَ هَذِهِ أُخْتِي وَذَلِكَ فِي نے سارہ سے متعل نے سارہ سے متعلق کہا: یہ میری بہن ہے۔ اور ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔ ان کے اس قول سے) یہ (مراد تھی کہ) اللہ عز و جل کی ذات کی خاطر (دینی بہن) ہے۔ تشريح : إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُكْرَهُ هَذِهِ أُخْتِي فَلَا شَيْءٌ عَلَيْهِ : اگر کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ یہ میری بہن ہے اور وہ مجبور ہو تو اس سے کچھ نقصان نہیں۔ اسلامی تعلیم کی رُو سے نکاح فریقین کی رضا و رغبت اور بلا جبر و اکراہ طے پانے والے رشتہ کا نام ہے۔ اگر یہ رشتہ جبر یا مرضی کے خلاف طے پا جائے تو اسلامی نقطہ نظر سے وہ شخص جسے مجبور کر کے اقرار لیا گیا ہو وہ اس رشتہ کا پابند نہیں ہے اور نہ ایسے رشتے کی (مسند احمد، مسند المكثرين، مسند عبد الله بن عمرو، جزء ۲ صفحه ۲۰۷)