صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 209 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 209

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۰۹ ۶۸ - كتاب الطلاق بَاب ۹ : لَا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہو سکتی وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اے مومنو! جب تم مومن إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ طَلَقْتُمُوهُنَّ مِنْ عورتوں سے شادی کرو، پھر اُن کو اُن کے چھونے قَبْلِ أَنْ تَمَشُوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ سے پہلے طلاق دیدو تو تم کو کوئی حق نہیں کہ اُن عِدَّةٍ تَعْتَدُونَهَا فَمَتَّعُوهُنَّ وَ سَرْحُوهُنَّ سے عدت کا مطالبہ کرو، پس ( چاہیے کہ) اُن کو سَرَاحًا جَمِيلًا (الأحزاب: ٥٠) وَقَالَ کچھ دنیوی نفع پہنچا دو اور اُن کو عمدگی کے ساتھ ابْنُ عَبَّاسٍ جَعَلَ اللهُ الطَّلَاقَ بَعْدَ رخصت کر دو۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: اللہ النِّكَاحِ وَيُرْوَى فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ نے طلاق کو نکاح کے بعد ہی رکھا ہے۔ اور اس وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ کے متعلق حضرت علی، سعید بن مسیب، عروہ بن الزُّبَيْرِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ زبیر ، ابو بکر بن عبد الرحمن، عبید اللہ بن عبد الله وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح وَأَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ سعید بن جبیر ، قاسم (بن محمد )، سالم ( بن عبد الله وَشُرَيْحٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالْقَاسِمِ بن عمر)، طاؤس، حسن (بصری)، عکرمہ، عطاء وَسَالِمٍ وَطَاوُسٍ وَالْحَسَنِ وَعِكْرِمَةَ بن ابی رباح)، عامر بن سعد، جابر بن زید ، نافع وَعَطَاءٍ وَعَامِرِ بْنِ سَعْدٍ وَجَابِرِ بْنِ بن جبير، محمد بن كعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، زَيْدٍ وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ قاسم بن عبد الرحمن، عمرو بن ہرم اور شعبی سے كَعْبٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَمُجَاهِدٍ وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَمْرِو بْنِ هَرِمٍ وَالشَّعْبِي أَنَّهَا لَا تَطْلُقُ۔ مروی ہے کہ (نکاح سے پہلے ) طلاق نہیں ہوتی۔ تشریح : لا طلاق قبل نکاح : نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوسکتی۔ عنوان باب کے یہ الفاظ ایک حدیث کے ہیں جسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں درج کیا ہے اس مضمون کی بعض روایات دیگر کتب حدیث (ابن ماجه، کتاب الطلاق، باب لا طلاق قبل النكاح)