صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 208
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۰۸ ۶۸ - کتاب الطلاق أَنْ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ درخت کا رس چوسا ہے اور میں بھی یہی کہوں بِمَا أَمَرْتِنِي بِهِ فَرَقًا مِنْكِ فَلَمَّا دَنَا کی اور صفیہ! تم بھی ایسا ہی کہنا۔حضرت عائشہ مِنْهَا قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ يَا رَسُوْلَ اللهِ نے کہا: سودہ کہتی تھیں: اللہ کی قسم ! ابھی تھوڑی أَكَلْتَ مَغَافِيْرَ قَالَ لَا قَالَتْ فَمَا دیر گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن هَذِهِ الرّيْحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ قَالَ کھڑے ہوئے اور میں نے تمہارے ڈر سے یہ چاہا سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلِ۔فَقَالَتْ کہ جو بات تم نے مجھ سے کہی تھی وہ جھٹ پہلے جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَار ہی آپ سے کہہ دوں (مگر کہہ نہ سکی۔) جب إِلَيَّ قُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ۔فَلَمَّا دَارَ آپ اُن کے نزدیک آئے تو سودہ نے آپ سے إِلَى صَفِيَّةَ قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ۔فَلَمَّا كہا: يارسول اللہ ! آپ نے کہیں ہینگ کھائی ہے؟ دَارَ إِلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ آپ نے فرمایا: نہیں۔سودہ نے کہا: پھر یہ کیا بو ہے جو میں آپ سے محسوس کرتی ہوں ؟ آپ نے أَلَا أَسْقِيْكَ مِنْهُ؟ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيْهِ۔قَالَتْ تَقُوْلُ سَوْدَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي۔فرمایا: حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔تب سودہ نے کہا: اس شہد کی مکھی نے عُرفہ کا رس چوسا ہے۔جب آپ چکر لگا کر میرے پاس آئے میں نے آپ سے یہی کہا اور جب صفیہ کے پاس گئے اُنہوں نے بھی یہی کہا۔جب حفصہ کے پاس (دوسرے دن ) چکر لگاتے ہوئے گئے انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کو شہد کا شربت نہ پلاؤں؟ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں: سودہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم ! ہم نے آپ کو شہد سے محروم کیا۔میں نے کہا: چپ رہو۔أطرافه : ٤۹۱۲ ٥۲۱٦، ٥٢٦، ٥٤ ٥٥٩، ٥٦٤، ٥٦٨، ٦٦٩١، ٦٩٧٢-