صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 203
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۰۳ بَاب : مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ جس نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے ۶۸ کتاب الطلاق وَقَالَ الْحَسَنُ نِيَّتُهُ۔وَقَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ اور حسن بصری) نے کہا: اس کی نیت کو ہی ملحوظ إِذَا طَلَّقَ ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ رکھا جائے گا اور علماء نے کہا: جب کوئی تین طلاق فَسَمَّوْهُ حَرَامًا بِالطَّلَاقِ وَالْفِرَاقِ دیدے تو پھر وہ اُس پر یقینا حرام ہو گئی تو انہوں وَلَيْسَ هَذَا كَالَّذِي يُحَرِّمُ الطَّعَامَ لِأَنَّهُ نے اس طلاق کا نام حرام بالطلاق اور حرام بالفراق لَا يُقَالُ لِطَعَامِ الْحِلَ حَرَامٌ وَيُقَالُ رکھا اور یہ حرمت ویسی نہیں جو کھانے کو حرام کر لِلْمُطَلَّقَةِ حَرَامٌ وَقَالَ فِي الطَّلَاقِ دیتی ہے کیونکہ حلال کھانے کو حرام نہیں کہتے اور ثَلَافًا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ مطلقہ کو بھی حرام کہتے ہیں اور اس طلاق کو جو تین زوجًا غَيْرَة۔(البقرة: ٢٣١) بار دی جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ عورت اس کے لئے جائز نہیں ہو گی جب تک کہ وہ اس کے سوا کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔٥٢٦٤ : وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ نَافِعِ قَالَ ۵۲۶۴: اور لیث نے کہا: انہوں نے نافع سے كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ نقل کیا۔انہوں نے کہا: حضرت (عبد اللہ بن عمرؓ ثَلَاثًا قَالَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ سے جب اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تین طلاقیں دے دیں تو وہ کہتے : اگر تو ایک دفعہ أَمَرَنِي بِهَذَا فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا حَرُمَتْ یا دو دفعہ طلاق دیتا ( تو رجوع کر سکتا تھا) کیونکہ نبی عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی حکم دیا۔اگر تم اس کو تین طلاقیں دے دو تو وہ تم پر حرام ہو گئی یہاں تک کہ تمہارے سواکسی اور خاوند سے نکاح کرے۔أطرافه : ٤٩٠٨، ۱۲۵۱ ۵۲۰۲، ۰۲۵۳، ۰۲۰۸، ۵۳۳۲، ٥٣٣٣، ٧١٦٠- ٥٢٦٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۲۶۵: محمد بن سلام) نے ہمیں بتایا کہ ابو معاویہ