صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 202 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 202

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۰۲ ۶۸ - كتاب الطلاق عَنِ الْخِيَرَةِ فَقَالَتْ خَيَّرَنَا النَّبِيُّ اُنہوں نے مسروق سے روایت کی، اُنہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا؟ کہا: میں نے حضرت عائشہ سے اختیار دینے کے قَالَ مَسْرُوْقٌ لَا أُبَالِي أَخَيَّرْتُهَا متعلق پوچھا۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي۔ نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا یہ طلاق ہو گئی تھی ؟ طرفه: ٥٢٦٢ مسروق کہتے تھے کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ جبکہ وہ مجھے اختیار کرلے تو پھر اس کے بعد میں اس کو ایک بار اختیار دوں یا سو بار اختیار دوں۔ بَاب ٦ : إِذَا قَالَ فَارَقْتُكِ أَوْ سَرَّحْتُكِ أَوِ الْخَلِيَّةُ أَوِ الْبَرِيَّةُ أَوْ مَا عُنِيَ بِهِ الطَّلَاقُ فَهُوَ عَلَى نِيَّتِهِ جب کوئی یہ کہے کہ میں تجھ سے الگ ہو گیا یا میں نے تجھے چھوڑ دیا یا کہے تو بغیر خاوند کے ہے یا یہ کہے تو الگ ہے یا کوئی ایسا لفظ جس سے طلاق مراد ہو تو پھر وہ اس کی نیت کے مطابق ہو گا وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسَرِّحُوهُنَّ اور الله عز وجل کا یہ فرمانا: اور اُن کو اُس طرح سَرَاحًا جَمِيلًا (الاحزاب : (٥٠) وَقَالَ وَ چھوڑو جو اچھی طرح سے چھوڑنا ہو ۔ اور فرمایا: ان اسر حُكُن سَرَاحًا جَمِيلًا (الاحزاب : ۲۹) کو عمدگی کے ساتھ رخصت کرو۔ اور فرمایا: یا وَقَالَ فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحُ اُسے دستور کے مطابق بھلائی سے رکھنا ہو گا یا باحسان ( البقرة: ۲۳۰) وَقَالَ اَوْ عمدگی سے چھوڑ دینا ہو گا۔ اور فرمایا: یا اُن سے فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوفٍ۔ (الطلاق: (۳) دستور کے مطابق بھلائی سے الگ ہو جاؤ۔ اور وَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ عَلِمَ النَّبِيُّ حضرت عائشہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَوَيْ لَمْ خوب علم تھا کہ میرے ماں باپ ایسے نہیں کہ يَكُوْنَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ۔ مجھے آپ سے الگ ہونے کا مشورہ دیں۔