صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 199 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 199

صحیح البخاری جلد ۱۳ ١٩٩ ۶۸ کتاب الطلاق کہ فی الواقعہ دونوں کا قصور ہے صرف مرد ہی کا قصور نہیں ہے بلکہ عورت بھی قصور وار ہے تو اس صورت میں اگر عورت سے کچھ دلوا کر اُن میں جدائی کروا دی جائے جسے اصطلاحاً خلع کہتے ہیں تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔۔۔تلكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا۔فرماتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور تمہارا فرض ہے کہ تم ان حدود سے اپنا قدم باہر مت رکھو۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم کی یہاں تک خلاف ورزی کی کہ انہوں نے کہہ دیا کہ اگر ایک مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں بھی دے دی جائیں تب بھی طلاق بتہ واقع ہو جاتی ہے۔حالانکہ یہ سوال خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ایک ہی طلاق سمجھی جائیگی ! تو آپ نے فرمایا: یہ ایک ہی طلاق ہے۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طَلَّقَ رَكَانَهُ زَوْجَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَخَزَنَ عَلَيْهِ حُزْنًا شَدِيدًا فَسَنَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ طَلَّقْعَهَا قَالَ طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا فِي مجلس وَاحِدٍ قَالَ الْمَا تِلْكَ طَلْقَةً وَاحِدَةٌ فَارْتَجعُهَا۔(ابوداؤد، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث) یعنی ایک شخص رکانہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیں۔اس کے بعد رکانہ کو اپنے اس فعل پر شدید صدمہ ہوا۔جب یہ معاملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تو نے اپنی بیوی کو کس طرح طلاق دی تھی۔اس نے کہا: میں نے اسے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دی تھیں۔آپ نے فرمایا: یہ ایک ہی طلاق ہے۔اس لئے تم رجوع کر لو اسی طرح نسائی میں محمود بن لبید سے روایت ہے کہ اخبرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ الْعَبُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَانَا بَيْنَ أَظْهُرِ كُمُ۔(نسائی، کتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا: ابھی تو میں تم میں موجو د ہوں۔کیا میری موجودگی میں وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلتا ہے۔اسی طرح حضرت ابن عباس سے