صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 198 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 198

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۹۸ ۶۸ - كتاب الطلاق طلاق دے وہ ایک ہی طلاق سمجھی جائے گی۔ اور عدت گزرنے کے بعد پھر خاوند نکاح کر سکے گا۔ اس قسم کی طلاقیں صرف دو جائز ہیں یعنی طلاق دینا اور عدت کے بعد دوبارہ نکاح کر لینا۔ اگر دو ہو جائیں تو اس کے بعد پھر اگر وہ تیسری مرتبہ طلاق دے دے تو ایسے شخص کے لئے اس عورت سے دوبارہ نکاح جائز نہیں جب تک کہ وہ با قاعدہ اور شرعی نکاح دوسرے شخص سے نہ کر چکی ہو جو حقیقی نکاح ہے حلالہ نہیں۔ کیونکہ حلالہ کا وجو د اسلام میں نہیں ملتا ۔۔۔۔ فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحُ بِإِحْسَان میں بتایا کہ ان دو طلاقوں کے بعد یا تو عورت کو معروف طریق کے مطابق اپنے گھروں میں بسا لو اور یا پھر حسن سلوک کے ساتھ رخصت کر دو۔ تشریح بِاِحْسَانِ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ایک تشریح احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ ابن ابی حاتم نے ابی زرین سے روایت کی ہے کہ جاء رجل إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَامْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحُ بِإِحْسَانِ أَيْنَ الثَّالِثَةُ قَالَ التَّسْرِيحُ بِإِحْسَانٍ ۔ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! دو طلاقیں تو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ تیسری کہاں سے آئی؟ آپ نے فرمایا او تسريح باحسان جو آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تشریح بِاحْسَانِ کو آپ نے تیسری طلاق قرار دیا ہے۔ اس جگہ احسان کا لفظ رکھ کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ عورت کو رخصت کرتے وقت اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا چاہئے۔ یہ آیت بالصراحت بتاتی ہے کہ طلاق کے بعد عورت سے زیورات اور پار چات وغیرہ واپس نہیں لئے جاسکتے ، نہ مال واپس لیا جا سکتا ہے، نہ کوئی جائیداد جو اسے دی جا چکی ہو واپس لی جا سکتی ہے ۔ بلکہ مرد اگر مہر ادا نہ کر چکا ہو تو طلاق کی صورت میں وہ مہر بھی اسے ادا کرنا پڑے گا لیکن اس کے بعد ایک استثنیٰ رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ به یعنی اس صورت میں اگر تمہاری رائے بھی یہی ہو کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں گے یعنی قضا نے بھی دیکھ لیا ا ( تفسير القرآن من الجامع لابن وهب، النهي عن المسألة عن القرآن، جزء اول صفحه ۱۲۳)