صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 200
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۰۰ ۶۸ کتاب الطلاق روایت ہے کہ كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَ سَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَر طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ انَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ (مسلم، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک ایک وقت میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق تسلیم کی جاتی تھی۔لیکن حضرت عمرؓ نے یہ دیکھ کر کہ لوگ طلاقوں کو ایک معمولی بات سمجھنے لگ گئے ہیں اور انہوں نے ایک ایسے معاملہ میں جس میں انہیں بہت غور اور سوچ بچار سے کام لینے کا حکم تھا جلد بازی شروع کر دی ہے وقتی طور پر یہ فیصلہ فرما دیا کہ آئندہ اگر کسی نے اکٹھی تین طلاقیں دیں تو اس کی تین طلاقیں ہی متصور ہو نگی۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی اسلامی تعلیم سے ناواقفیت کی وجہ سے یہ رواج ہے کہ معمولی معمولی جھگڑوں پر لوگ اپنی بیویوں سے کہہ دیتے ہیں کہ تمہیں تین طلاق تمہیں تین ہزار طلاق تمہیں تین کڑور طلاق تمہیں تین ارب طلاق۔حالانکہ اسلام نے اس بیوقوفی کی اجازت نہیں دی۔اور پھر آج کل کے وہ لوگ جو شریعت کے پورے واقف نہیں کہہ دیتے ہیں کہ تین دفعہ یکدم طلاق دینے کے بعد عورت سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔حالانکہ یہ طلاق شرعی لحاظ سے ایک ہی طلاق ہے اور عدت گزرنے کے بعد عورت سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب اس قسم کے واقعات کثرت سے ہونے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت ایک سے زیادہ طلاقیں دے گا تو میں سزا کے طور پر اس کی بیوی کو اس پر ناجائز قرار دے دوں گا۔جب آپ پر یہ سوال ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایسا حکم نہیں دیا۔پھر آپ نے ایسا کیوں کیا ہے تو آپ نے فرمایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ منشاء تھا کہ اس قسم کی طلاقیں رک جائیں۔مگر چونکہ تم لوگ اس قسم کی طلاق دینے سے رکتے نہیں اس لئے میں سزا کے طور پر اس قسم کی طلاق کو جائز قرار دے دوں گا۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور آپ کا ایسا کرنا ایک وقتی مصلحت کے ماتحت تھا اور صرف سزا کے طور پر تھا مستقل حکم کے طور پر نہیں تھا۔بہر حال