صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 195
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۹۵ ۶۸ - كتاب الطلاق وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمْ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ نے اُس مسئلہ کو برا منایا جس کے متعلق میں نے قَدْ كَرِهَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ سے پوچھا۔ عویمر نے کہا: اللہ کی قسم میں تو وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا۔ رکنے کا نہیں، جب تک کہ آپ سے اس کے قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى متعلق پوچھ نہ لوں۔ یہ کہہ کر عویمر چلے گئے اور أَسْأَلَهُ عَنْهَا۔ فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبکہ آپ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے آئے اور کہا: وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ يا رسول اللہ ! آپ ایسے شخص کے متعلق بتلائیں کہ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے شخص کو پایا ر أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُوْنَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ ہو تو کیا وہ جو اسے مار ڈالے؟ پھر آپ (لوگ) فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسے بھی مار ڈالیں گے ؟ یا وہ کیا کرے ؟ رسول اللہ قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيْكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے متعلق اور فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ۔ قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا تمہاری بیوی کے متعلق اللہ نے حکم نازل کر دیا ہے وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى جاؤ اس کو لے آؤ۔ حضرت سہل کہتے تھے: پھر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ اُن دونوں نے ایک دوسرے کو لعان کیا اور میں عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُوْلَ اللهِ بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إِنْ أَمْسَكْتُهَا۔ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ کے پاس بیٹھا تھا۔ جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عویمر نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر میں نے اس کو گھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ میں رکھا تو میں نے اس کے متعلق جھوٹ ہی کہا، فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ۔ اس لئے اس نے اس عورت کو پیشتر اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو حکم دیتے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب نے کہا: پھر لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ہو گیا۔ أطرافه : ٤٢٣، ٤٧٤٥ ، ٤٧٤٦، ۵۳۰۸، ٥۳۰۹، ٦٨٥٤ ، ٧١٦٥، ٧١٦٦، ٧٣٠٤۔