صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 196 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 196

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۹۶ ۶۸ - كتاب الطلاق ٥٢٦٠ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ۵۲۶۰ : سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا کہ لیث حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ (بن سعد ) نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔ عقیل نے ابن شہاب بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ امْرَأَةَ سے، اُنہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر رِفَاعَةَ الْقُرَظِي جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ دی کہ حضرت عائشہ نے اُن کو بتایا: رفاعہ قرضی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَبَتَّ اور کہنے لگی: یا رسول اللہ ! رفاعہ نے مجھے طلاق طلاقِي وَإِنِّي نَكَحْتُ بَعْدَهُ دے دی اور طلاق بھی قطعی دی اور میں نے اس عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ الْقُرَظِيَّ وَإِنَّمَا کے بعد عبد الرحمن بن بن زبیر قرظی سے نکاح کیا۔ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ۔ قَالَ رَسُولُ اللهِ اس کے پاس تو کپڑے کے پلو جیسا ہے۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكِ تُرِيْدِيْنَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو کبھی نہیں، جب أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ؟ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوْقِي عُسَيْلَتَهُ۔ تک کہ عبد الرحمن تمہارا مزہ نہ چکھے اور تم اُس کا مزہ نہ اٹھاؤ۔ أطرافه : ٢٦٣٩، ٥٢٦١، ۵٢٦٥، ۵۳۱۷، ۵۷۹۲، ٥٨٢٥، ٦٠٨٤۔ ٥٢٦١ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۵۲۶۱ : محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ یچی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عبید اللہ بن عمر عمری) سے ، اُنہوں نے کہا: قاسم أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا۔ قاسم نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو تین طلاقیں دے دیں اور پھر اس نے نکاح کر لیا أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ لَا حَتَّى يَذُوْقَ اور اس دوسرے نے بھی طلاق دے دی۔ نبی عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ۔ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا پہلے کے لئے یہ جائز ہو گئی؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ دوسرا اس کا مزہ نہ اٹھائے جیسا کہ پہلے نے اٹھایا۔ أطرافه : ٢٦٣٩ ، ٥٢٦٠، ٥٢٦٥، ۵۳۱۷، ٥۷۹۲، ٥٨٢٥، ٦٠٨٤