صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 193 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 193

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۹۳ ۶۸ کتاب الطلاق باہر تشریف لے آئے اور فرمایا: اے ابا اسید! اسے دو چادریں دے دو اور اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔چنانچہ اس کے بعد اُسے مہر کے حصہ کے علاوہ بطور احسان دو رازقی چادریں دینے کا آپ نے حکم دیا تا کہ قرآن کریم کا حکم وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمُ (البقرة: ۲۳۸) پورا ہو۔جو ایسی عورتوں کے متعلق ہے جن کو بلا صحبت طلاق دے دی جائے اور آپ نے اُسے رخصت کر دیا اور ابو اسیڈ ہی اُس کو اُس کے گھر پہنچا آئے۔اُس کے قبیلہ کے لوگوں پر یہ بات نہایت شاق گذری اور انہوں نے اُس کو ملامت کی مگر وہ یہی جواب دیتی رہی کہ یہ میری بدبختی ہے اور بعض دفعہ اُس نے یہ بھی کہا کہ مجھے ورغلایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس آئیں تو تم پرے ہٹ جانا اور نفرت کا اظہار کرنا۔اس طرح اُن پر تمہارا رعب قائم ہو جائیگا۔معلوم نہیں یہ وجہ ہوئی یا کوئی اور بہر حال اُس نے نفرت کا اظہار کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے علیحدہ ہو گئے اور اُسے رخصت کر دیا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مش سے مراد صرف چھونا نہیں بلکہ مخصوص تعلقات کا قائم ہو جاتا ہے ورنہ لغوی معنوں کے لحاظ سے تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اور آپ اُسے چھو چکے تھے۔( تفسیر کبیر ، سورة البقرة زیر آیت وَ إِنْ طَلَقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ۔۔۔جلد دوم صفحه ۵۳۳ تا ۵۳۵) بَاب ٤ : مَنْ جَوْزَ طَلَاقَ الثَّلَاثِ جس نے تین طلاق کو جائز قرار دیا لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ مَرَّتن کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: یعنی طلاق دو دفعہ ہی فَإمساك بِمَعْرُوفٍ او تسریح ہے۔پھر دستور کے مطابق رکھنا ہو گا یا عمدگی سے باحسان۔(البقرة: ٢٣٠) چھوڑ دیتا ہو گا۔وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي مَرِيْضِ طَلَّقَ لَا اور حضرت ابن زبیر نے مریض کے متعلق کہا جس أَرَى أَنْ تَرِثَ مَبْتُوْتَةٌ۔وَقَالَ الشَّعْبِيُّ نے طلاق دے دی ہو میں نہیں سمجھتا کہ وہ عورت تَرِثُهُ۔وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ تَزَوَّجُ إِذَا جس کو اُس نے چھوڑا ہے وہ اس کی وارث ہو گی انْقَضَتِ الْعِدَّةُ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ اور شعی نے کہا: اس کی وارث ہو گی اور ابن شبرمہ