صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 192
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۹۲ ۶۸ - کتاب الطلاق کا مہر نہیں باندھا۔جب اُس نے رضا مندی کا اظہار کر دیا تو نکاح پڑھا گیا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ کسی آدمی کو بھیج کر اپنی بیوی منگوا لیجئے۔آپ نے ابا اُسیڈ کو اس کام پر مقرر کیا۔وہ تشریف لے گئے۔جو نیہ نے اُن کو اپنے گھر بلایا تو آپ نے کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر حجاب نازل ہو چکا ہے۔اس پر اُس نے دوسری ہدایات دریافت کیں جو آپ نے بتا دیں اور اونٹ پر بٹھا کر مدینہ لے آئے۔اور ایک مکان میں جس کے گرد کھجوروں کے درخت بھی تھے لا کر اُتارا۔اُس کے ساتھ اُس کی دایہ بھی اُس کے رشتہ داروں نے روانہ کی تھی۔جس طرح ہمارے ملک میں ایک بے تکلف نو کر ساتھ جاتی ہے تاکہ اُسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔چونکہ یہ عورت حسین مشہور تھی، اور یوں بھی عورتوں کو دلہن دیکھنے کا شوق ہوتا ہے مدینہ کی عورتیں اس کو دیکھنے گئیں۔اور اس عورت کے بیان کے مطابق کسی عورت نے اُس کو سکھا دیا کہ رعب پہلے دن ہی ڈالا جاتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس آئیں تو کہہ دیجیو کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، اس پر وہ تیرے زیادہ گرویدہ ہو جائیں گے۔اگر یہ بات اس عورت کی بنائی ہوئی نہیں تو کچھ تعجب نہیں کہ کسی منافق نے اپنی بیوی یا اور کسی رشتہ دار کے ذریعہ یہ شرارت کی ہو۔غرض جب اس کی آمد کی اطلاع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ اس گھر کی طرف تشریف لے گئے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اُسے فرمایا کہ تو اپنا نفس مجھے ہبہ کر دے اُس نے جواب دیا کہ کیا ملکہ بھی اپنے آپ کو عام آدمیوں کے سپرد کیا کرتی ہے؟ ابو اسید کہتے ہیں کہ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ اجنبیت کی وجہ سے گھبرا رہی ہے اُسے تسلی دینے کے لئے اس پر اپنا ہاتھ رکھا۔آپ نے اپنا ہاتھ ابھی رکھا ہی تھا کہ اُس نے یہ نہایت ہی گندہ اور نامعقول فقرہ کہہ دیا کہ میں تجھ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتی ہوں۔چونکہ نبی خدا تعالیٰ کا نام سُن کر ادب کی رُوح سے بھر جاتا ہے اور اُس کی عظمت کا متوالا ہوتا ہے۔اُس کے اِس فقرہ پر آپ نے فوراً فرمایا کہ تو نے ایک بڑی ہستی کا واسطہ دیا ہے اور اس کی پناہ مانگی ہے جو بڑا پناہ دینے والا ہے، اس لئے میں تیری درخواست کو قبول کرتا ہوں۔چنانچہ آپ اُسی وقت