صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 182 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 182

صحیح البخاری جلد ۱۳ lar ۶۷ - كتاب النكاح شريح : لَا يَحْلُونَ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا ذُو محرم : محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہانہ رہے۔ابواب ۱۱۱ سے ۱۲۵ میں اسلام کی تعلیم کے اس حسن کی چکار دکھائی گئی ہے جس میں نامحرم مرد عورت کے اختلاط کی ممانعت کا ذکر ہے۔خصوصاً تنہائی میں ایک دوسرے سے ملنا اور روابط بڑھانا۔تا ہم لوگوں کی موجودگی میں انسانی ضرورتوں کے لیے مردوں عورتوں کا باہم ملنا منع نہیں ہے۔پردے کے تعلق میں اسلام نے ایسی صورتوں میں احتیاط پر زور دیا ہے جہاں علیحدگی میں دونوں طرف سے بذریعہ نظر یا جسمانی قربت وغیرہ کا امکان ہو۔نیز بعض رشتوں کے متعلق خاص احتیاط کی تعلیم دی ہے۔مثلاً دیور ، جیٹھ ، بہنوئی ، کزنز وغیرہ۔ان الفاظ میں ان تمام قریبی رشتوں کو بیان کیا گیا ہے جن کے نامحرم ہونے کے باوجود معاشرتی تقاضوں کی وجہ سے ملنے جلنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔فرمایا: الْحَمدُ الْمَوْتُ (یعنی یہ رشتہ دار تو موت ہیں ) اس میں یہ تمام قریبی رشتے بیان کیے گئے ہیں۔اس احتیاط میں اس امر کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ایسی عورتیں یا مرد جو ہیجڑے بن کر گھروں میں آجاتے ہیں۔ننگی فحش گفتگو کرتے ہیں ان کو بھی گھروں میں نہ آنے دیا جائے۔نیز دو مردوں اور دو عورتوں کا ایک بستر میں اکٹھالیٹنا بھی منع کیا جس سے غلط نتائج نکلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں فی زمانہ ہم جنس پرستی عالمی سطح پر اشاعت فحشاء کا بہت بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔حتی کہ اس خلاف فطرت عمل کے حق میں قانون بن چکے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ سو سال پہلے یہ تنبیہہ فرما دی تھی۔لَا تُبَاهِرُ الْمَرْأَةُ المَرأَة ( روایت نمبر ۵۲۴۰) کہ ایک عورت دوسری عورت سے لپٹ کر نہ سوئے۔اور قرآنِ کریم نے مردوں کی ہم جنس پرستی کے متعلق فرمایا: آتَا تُونَ اللَّكْرانَ مِنَ العلمينَ وَتَدْرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمُ عُدُونَ (الشعراء : ۱۶۶، ۱۶۷) کیا تمام مخلوقات میں سے تم نے نروں کو اپنے لئے چنا ہے۔اور تم ان کو چھوڑتے ہو جن کو تمہارے رب نے تمہاری بیویوں کی حیثیت سے پیدا کیا ہے (صرف یہی نہیں کہ تم ایسا فعل کرتے ہو) بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) تم (انسانی فطرت کے تقاضوں کو ہر طرح توڑنے والی قوم ہو۔جنسی بے راہ روی کی یہی وہ حد تھی جس سے تجاوز کے نتیجہ میں قوم لوط تباہ کی گئی اور آج دجالی فتنوں نے منْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الأنبياء: 9) - کے قرآنی بیان کے مطابق ہر حد پھلانگ لی ہے۔اور شہوانی طوفان میں ابنائے آدم اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ انہیں کوئی خضر راہ دکھائی نہیں دیتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اسلامی پر دہ پر اعتراض کرنا اُن کی جہالت ہے اللہ تعالیٰ نے پردہ کا ایسا حکم دیا ہی نہیں، جس پر اعتراض وارد ہو۔قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غض بصر کریں۔جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں، تو محفوظ رہیں گے۔یہ نہیں کہ انجیل کی طرح یہ حکم دے دیتا کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھ۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑے چلے آئیں گے۔“ ”