صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 183
صحیح البخاری جلد ۱۳ lAr ۶۷ - كتاب النكاح افسوس کی بات ہے کہ انجیل کے مصنف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ شہوت کی نظر کیا ہے؟ نظر ہی تو ایک ایسی چیز ہے جو شہوت انگیز خیالات کو پیدا کرتی ہے۔اس تعلیم کا جو نتیجہ ہوا ہے وہ اُن لوگوں سے مخفی نہیں ہے جو اخبارات پڑھتے ہیں اُن کو معلوم ہو گا کہ لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے کیسے شرمناک نظارے بیان کیے جاتے ہیں۔اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی اُمور کے لیے پڑے، اُن کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے، وہ بیشک جائیں ،لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔مساوات کے لیے عورتوں کے نیکی کرنے میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے اور نہ اُن کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نیکی میں مشابہت نہ کریں۔اسلام نے یہ کب بتایا ہے کہ زنجیر ڈال کر رکھو۔اسلام شہوات کی بناء کو کاٹتا ہے۔یورپ کو دیکھو کیا ہو رہا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ کتوں اور کتوں کی طرح زنا ہوتا ہے اور شراب کی اس قدر کثرت ہے کہ تین میل تک شراب کی دکانیں چلی گئی ہیں۔یہ کسی تعلیم کا نتیجہ ہے؟ کیا پردہ داری یا پردہ دری کا۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه ۲۹۸،۲۹۷)