صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 181
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۸۱ ۶۷ - كتاب النكاح وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ ہو کر تقریر فرمائی اور حضرت ابن عباس نے نہ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى اذان کا ذکر کیا نہ اقامت کا۔ پھر اس کے بعد آپ بِلَالٍ ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ۔ عورتوں کے پاس آئے اور اُنہیں وعظ و نصیحت کی اور اُن کو صدقہ دینے کا حکم دیا۔ میں نے اُن عورتوں کو دیکھا کہ وہ جھک جھک کر اپنے کانوں اور گلوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھیں، حضرت بلال کو دیتی جاتی تھیں۔ پھر آپ اور حضرت بلال گھر کو چلے گئے۔ أطرافه: ۹۸ ، ٨٦٣، ٩٦٢ ، ۹٦٤، ۹۷۵، ۹۷۷، ۹۷۹، ۹۸۹، ١٤۳۱، ١٤٤٩، ٤٨٩٥، ۷۳۲۵ ،۵۸۸۳ ،۵۸۸۱ ،۵۸۸۰ بَاب ١٢٥ : قولُ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ هَلْ أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ وَطَعْنُ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ فِي الْخَاصِرَةِ عِنْدَ الْعِتَابِ آدمی کا اپنے ساتھی سے کہنا: کیا آج رات تم اپنی بیوی کے پاس گئے اور آدمی کا اپنی بیٹی کو ناراضگی کا اظہار کرتے وقت پہلو میں کو نچنا ٥٢٥٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۲۵۰: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ عبدالرحمن بن قاسم سے، عبدالرحمن نے اپنے ، اُنہوں نے حضرت عائشہ سے روایت عَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ باپ سے، انہوں ۔ کی۔ وہ کہتی تھیں: حضرت ابو بکر نے مجھ پر فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنے ہاتھ سے میرے پہلو میں کو نچا لگایا اور مجھے ہلنے سے صرف یہی بات اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي۔ روکتی تھی کہ رسول اله صلى الله علیه وسلم آن علیہ وسلم آرام کر رہے تھے اور آپ کا سر میری ران پر تھا۔ أطرافه: ٣٣٤، ٣٣٦، ۳۶۷۲، ۳۷۷۳، ٤٥۸۳، ٤٦٠٧ ، ٤٦٠٨، ٥١٦٤، ٥٨٨٢، ٦٨٤٤، -٦٨٤٥