صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 177 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 177

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۷۷ ۶۷ - كتاب النكاح الْكَيْسِ تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللهِ عَنْ وَهْبٍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: دیکھنا عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا، اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا۔ (شعبی کی طرح) اس حدیث کو عبید اللہ نے وہب وَسَلَّمَ فِي الْكَيْسِ۔ (بن کیسان) سے بھی نقل کیا ہے، وہب نے حضرت جابر سے، حضرت جابرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی اولاد کے حاصل کرنے کے متعلق روایت کیا۔ أطرافه: ٤٤٣، ۱۸۰۱، ۲۰۹۷ ، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ۲۳۹٤، ٢٤٠٦ ، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٥٠ ٥٢٤٣۸۰ ،۵۰۷۹ ،۴۰۵۲ ،۳۰۹۰ ، ۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲٢٨٦١، ٩٦٧ ،۲۷۱۸ -٥٢٤٤، ٥٢٤٥ ٥٢٤٧ ، ٥٣٦٧ ٦٣٨٧ تشریح: طلب الولد: اولاد حاصل کرنا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف میں صرف یہ آیت ہے : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (البقرة: (۲۲۴) یعنی تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا ہونے کے لئے ایک کھتی ہیں۔ پس تم اپنی کھیتی کی طرف جس طور سے چاہو آؤ۔ صرف کھیتی ہونے کا لحاظ رکھو یعنی اس طور سے صحبت نہ کرو جو اولاد کی مانع ہو۔ بعض آدمی اسلام کے اوائل زمانہ میں صحبت کے وقت انزال کرنے سے پر ہیز کرتے تھے اور باہر انزال کر دیتے تھے۔ اس آیت میں خدا نے اُن کو منع فرمایا اور عورتوں کا نام کھیتی رکھا یعنی ایسی زمین جس میں ہر قسم کا اناج اگتا ہے پس اس آیت میں ظاہر فرمایا کہ چونکہ عورت در حقیقت کھیتی کی مانند ہے جس سے اناج کی طرح اولاد پیدا ہوتی ہے سو یہ جائز نہیں کہ اُس کھیتی کو اولاد پیدا ہونے سے روکا جاوے۔ ہاں اگر عورت بیمار ہو اور یقین ہو کہ حمل ہونے سے اُس کی موت کا خطرہ ہو گا ایسا ہی صحت نیت سے کوئی اور مانع ہو تو یہ صورتیں مستثنیٰ ہیں ورنہ عند الشرع ہرگز جائز نہیں کہ اولاد ہونے سے روکا جائے ۔ غرض جب کہ خدا تعالٰی نے عورت کا نام کھیتی رکھا تو ہر ایک عظمند سمجھ سکتا ہے کہ اسی واسطے اُس کا نام کھیتی رکھا کہ اولاد پیدا ہونے کی جگہ اُس کو قرار دیا اور نکاح کے اغراض میں سے