صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 177 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 177

صحیح البخاری جلد ۱۳ 122 ۶۷ - كتاب النكاح الْكَيْسِ تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبٍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: دیکھنا عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا، اچھی اولاد کو مدنظر رکھنا۔(شعبی کی طرح) اس حدیث کو عبید اللہ نے وہب وَسَلَّمَ فِي الْكَيْسِ۔(بن کیسان) سے بھی نقل کیا ہے، وہب نے حضرت جابر سے، حضرت جابر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی اولاد کے حاصل کرنے کے متعلق روایت کیا۔أطرافه ٤٤٣، ۱۸۰۱، ۲۰۹۷، ۲۳۰۹، ٢۳۸۵ ٢٣٩٤، ٢٤٠٦، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٥٠٨٠، ٥٢٤ ۵۰۷۹ ۲۰۰۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲٢٨٦١، ٩٦٧ ،۲۷۱۸ -٥٢٤٤، ٢٤٥ ٥٤٧ ٥٣٦٧، ٦٣٨٧ تشریح: طلب الولد: اولاد حاصل کرنا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف میں صرف یہ آیت ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْتَكُم الى شِئْتُم (البقرة: ۲۲۴) یعنی تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا ہونے کے لئے ایک کھیتی ہیں۔پس تم اپنی کھیتی کی طرف جس طور سے چاہو آؤ۔صرف کھیتی ہونے کا لحاظ رکھو یعنی اس طور سے صحبت نہ کرو جو اولاد کی مانع ہو۔بعض آدمی اسلام کے اوائل زمانہ میں صحبت کے وقت انزال کرنے سے پر ہیز کرتے تھے اور باہر انزال کر دیتے تھے۔اس آیت میں خدا نے اُن کو منع فرمایا اور عورتوں کا نام کھیتی رکھا یعنی ایسی زمین جس میں ہر قسم کا اناج اگتا ہے پس اس آیت میں ظاہر فرمایا کہ چونکہ عورت در حقیقت کھیتی کی مانند ہے جس سے اناج کی طرح اولاد پیدا ہوتی ہے سو یہ جائز نہیں کہ اُس کھیتی کو اولاد پیدا ہونے سے روکا جاوے۔ہاں اگر عورت بیمار ہو اور یقین ہو کہ حمل ہونے سے اُس کی موت کا خطرہ ہو گا ایسا ہی صحت نیت سے کوئی اور مانع ہو تو یہ صورتیں متقی ہیں ورنہ عند الشرع ہرگز جائز نہیں کہ اولاد ہونے سے روکا جائے۔غرض جب کہ خدا تعالیٰ نے عورت کا نام کھیتی رکھا تو ہر ایک اسی واسطے اُس کا نام عقلمند سمجھ سکتا ہے۔کھیتی رکھا کہ اولاد پیدا ہونے کی جگہ اُس کو قرار دیا اور نکاح کے اغراض میں سے