صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 178
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۷۸ ۶۷ - كتاب النكاح ایک یہ بھی غرض رکھی کہ تا اس نکاح سے خدا کے بندے پیدا ہوں جو اُس کو یاد کریں۔ دوسری غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بھی قرار دی ہے کہ تا مرد اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوا بیوی اپنے خاوند کے ذریعہ سے بدن بد نظری اور بدعملی سے محفوظ رہے۔ تیسری غرض یہ بھی قرار دی ہے کہ تا باہم اُنس ہو کر تنہائی کے رنج سے محفوظ رہیں۔ یہ سب آیتیں قرآن شر شریف میں موجود ہیں ہم کہاں تک کتاب کو طول دیتے جائیں ۔ “ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن، جلد ۲۳، صفحه ۲۹۳،۲۹۲) بَاب ۱۲۲ : تَسْتَحِبُّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطُ الشَّعِئَةُ جس کا خاوند غیر حاضر رہا ہو وہ اُسترا استعمال کرے اور جس کے بال پر اگندہ ہوں وہ کنگھی کرے ٥٢٤٧ : حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۲۴۷: یعقوب بن ابراہیم نے مجھے بتایا کہ ہشیم حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنِ نے ہم سے بیان کیا کہ سیار نے ہمیں خبر دی۔ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ یار نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد اللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم ایک فِي غَزْوَةٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ الْمَدِينَةِ تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي جب ہم لوٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے میں نے قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي اپنے ایک ست اونٹ اونٹ پر سوار ہو کر جلدی جانے کی کوشش کی۔ اتنے میں ایک سوار میرے پیچھے فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ سے مجھے آملا اور اُس نے ایک چھڑی سے جو اُس فَسَارَ بَعِيرِي كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ کے پاس تھی میر۔ میرے اونٹ کو کچوکا دیا اور میرا مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتْ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اونٹ نہایت عمدہ چلنے لگا ایسا کہ جیسے تم اونٹوں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا کو چلتے دیکھتے ہو۔ میں نے مڑ کر جو دیکھا تو کیا دیکھتا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں نے قَالَ أَتَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ کہا: یا رسول اللہ ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قَالَ قُلْتُ بَلْ نَيِّبًا ۔ قَالَ آپ نے فرمایا: کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں