صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 176
صحیح البخاری جلد ۱۳ 129 ۶۷ - كتاب النكاح تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا نئی نئی شادی کی ہے۔آپ نے فرمایا: کیا با کرہ سے ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ أَمْهِلُوا حَتَّى شادی کی ہے یا شیبہ سے ؟ میں نے کہا: بلکہ ثیبہ تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءُ لِكَيْ تَمْتَشِطَ ہے۔آپ نے فرمایا: لڑکی کیوں نہ کی کہ تم اس الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ۔قَالَ سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔حضرت جابر" کہتے وَحَدَّثَنِي الثَّقَةُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا تھے: جب ہم (مدینہ) پہنچے تو ہم شہر میں داخل ہونے لگے آپ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، رات کو یعنی يَعْنِي الْوَلَدَ۔الْحَدِيثِ الْكَيْسَ الْكَيْسَ يَا جَابِرُ عشاء کے وقت داخل ہونا تا کہ جس کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب تھا وہ پاکی کرلے۔ہشیم کہتے تھے اور مجھے سے ایک معتبر شخص نے بیان کیا کہ آپ نے اس گفتگو کے اثنا میں یہ بھی کہا: جابر اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا، اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا۔گیس کے معنے ہیں معظمند اولاد کی خواہش رکھنا۔أطرافه ٤٤٣، ۱٨٠١ ، ۲۰۹۷ ، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ۲۳۹٤، ٢٤۰۶، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٥٠، ٥٢٤۸۰ ،۵۰۷۹ ،۲۰۱۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹۶۷ ،۲۸۶۱ ،۲۷۱۸ ٥٢٤٤، ٥٢٤٦ ٥٢٤٧ -٥٣٦٧، ٦٣٨٧ ٥٢٤٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ :۵۲۴۶ محمد بن ولید نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جعفر حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِي عَنْ جَابِرِ بْنِ نے سیار سے، سیار نے شعبی سے، شعبی نے عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رات کو دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ پہنچو تو اس وقت تک اپنے گھر والوں کے پاس نہ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِط جانا جب تک کہ جس کا خاوند غیر حاضر رہا ہے وہ الشَّعِثَةُ۔قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اُسترا استعمال نہ کرلے اور جس کے بال بکھرے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَيْكَ بِالْكَيْسِ ہیں وہ کنگھی نہ کرلے۔حضرت جابر کہتے تھے: