صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 172
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۷۲ ۶۷ - كتاب النكاح عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ کی ۔ وہ کہتی تھیں: میرا رضاعی چا آیا اور اُس نے حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله میرے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے اُن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی کو اجازت دینے سے اُس وقت تک انکار کر دیا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ فَقَالَ إِنَّهُ عَنْكِ فَأَذَنِي لَهُ قَالَے لوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي فرمایا: وہ تو تمہارے چا ہیں اُنہیں اجازت دو۔ الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَتْ کہتی تھیں : میں نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے تو عورت فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے دودھ پلایا ہے اور مرد نے مجھے دودھ نہیں وَسَلَّمَ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِحْ عَلَيْكِ قَالَتْ لایا۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں۔ تمہارے پاس الْحِجَابُ۔ قَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنَ اندر آجائیں۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: اور یہ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ۔ اُس وقت کا واقعہ ہے جبکہ ہمارے لئے پر وہ مقرر ہوا۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: رضاعت کی وجہ أطرافه : ٢٦٤٤، ٤٧٩٦ ، 510٣، 5111، 6156۔ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت کی وجہ سے حرام ہو جاتے ہیں۔ بَاب ۱۱۸ : لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا ایک عورت دوسری عورت سے لپٹ کر نہ سوئے اور نہ اپنے خاوند سے اس کا حلیہ بیان کرے ٥٢٤٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۵۲۴۰ : محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي کيا کہ سفیان ) سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ قالت ہے۔ (فتح الباری جزء 4 حاشیہ صفحہ ۴۱۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔