صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 170
صحیح البخاری جلد ۱۳ 12+ ۶۷ - كتاب النكاح بَاب ١١٤: نَظَرُ الْمَرْأَةِ إِلَى الْحَبَشِ وَنَحْوِهِمْ مِنْ غَيْرِ رِيبَةٍ عورت کا حبشیوں کو نیز اُن جیسے آدمیوں کو دیکھنا جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو ٥٢٣٦ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۵۲۳۶: اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ہمیں بتایا۔الْحَنْظَلِيُّ عَنْ عِيسَى عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ اُنہوں نے عیسی (بن یونس) سے، عیسی نے عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ اوزاعی سے ، اوزاعی نے زہری سے، زہری نے رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي عليه وسلم کو دیکھا آپ اپنی چادر سے مجھے پردہ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَسْأَمُ کرتے تھے اور میں حبشیوں کو مسجد میں کھیلتے دیکھا کرتی تھی۔یہاں تک کہ میں ہی ہوتی جو اکتا جاتی۔اس لئے اب تم ہی اندازہ کر لو کہ کم سن لڑکی جو کھیل تماشا دیکھنے کا بڑا شوق رکھتی ہو کتنی دیر تک فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ۔دیکھتی ہوگی۔أطرافه: ٤٥٤ ٤٥٥ ،۹۵۰، ۹۸۸ ٢٩٠٦، ٣٥٢٩، ٥١٩٠۔باب ۱۱۵ : خُرُوجُ النِّسَاءِ لِحَوَائِجِهِنَّ عورتوں کا اپنے کام کاج کے لئے باہر نکلنا ٥٢٣٧ : حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي :۵۲۳۷ فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ که علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ( بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن خَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ لَيْلًا فَرَآهَا کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی وہ کہتی عُمَرُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ إِنَّكِ وَاللهِ يَا تھیں: سودہ بنت زمعہ رات کو باہر گئیں۔حضرت سَوْدَةُ مَا تَحْفَيْنَ عَلَيْنَا فَرَجَعَتْ إِلَى عمر نے اُن کو دیکھ کر پہچان لیا اور کہنے لگے: سودھ! النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ تم تو اللہ کی قسم ہم سے نہیں چھپ سکتی۔یہ سن