صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 169 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 169

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶۹ ۶۷ - كتاب النكاح بَاب ۱۱۳: مَا يُنْهَى مِنْ دُخُولِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْمَرْأَةِ کسی عورت کے پاس ایسے مردوں کا آنا ممنوع ہے جو عورتوں کی طرح بنتے ہوں ٥٢٣٥ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۵۲۳۵ عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْن عُرْوَةَ عَنْ که عبده بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمّ سَلَمَةَ عَنْ أُمّ ہشام بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، اُن سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے باپ نے حضرت زینب بنت ام سلمہ سے، حضرت زینب نے حضرت اُم سلمہ سے روایت کی وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تھے اور اُس مُحَنَّتْ فَقَالَ الْمُخَنَّثُ لِأَخِي أُمِ وقت گھر میں ایک ہیجڑا بھی تھا۔اس ہیجڑے نے سَلَمَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ حضرت اُم سلمہ کے بھائی حضرت عبد اللہ بن ابی الله لَكُمُ الطَّائِفَ غَدًا أَدُلُّكَ عَلَى اُمیہ سے کہا: اگر اللہ نے کل تمہیں طائف فتح کرا ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعِ وَتُدْبِرُ دیا تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کا پتہ دوں گا کیونکہ وہ بِثَمَانِ۔فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ چاربل سے آتی ہے اور آٹھ بل سے جاتی ہے۔وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكُمْ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہ تمہارے پاس کبھی نہ آیا کرے۔أطرافه: ٤٣٢٤، ٥٨٨٧۔رح : مَا يُنَهَى مِن دُخُولِ الْمُتَهَيِّدِينَ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْمَرْأَةِ کی عورت کے پاس ایسے مردوں کا آنا ممنوع ہے جو عورتوں کی طرح بنتے ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں۔شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور نہ ان کو اپنی خدمت میں رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔“ (ملفوظات جلد ۵، صفحہ ۴۸)