صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 165 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 165

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶۵ ۶۷ - كتاب النكاح ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطلَقَ ابْنَتِي سوائے اس کے کہ ابو طالب کا بیٹا میری بیٹی کو وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي طلاق دے دے اور اُن کی بیٹی سے نکاح کرے يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا کیونکہ میری لڑکی میر الختِ جگر ہے مجھے بھی وہ بات بے چین کرتی ہے جس نے اس کو بے چین کیا اور مجھ کو تکلیف دیتی ہے جس بات نے اس کو تکلیف دی۔(آپ نے اسی طرح فرمایا) أطرافه: ۹٢٦، ۳۱۱۰، ۳۷۱، ۳۷۲۹، ۳۷۶۷، ۵۲۷۸ ح : ذَبُّ الرَّجُلِ عَنِ ابْنَتِهِ فِي الْغَيْرَةِ وَالْإِنْصَافي: آدم کا بوجہ غیرت اور انصاف اپنی بیٹی کی مدافعت کرنا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس شادی کو جو ابو جہل کی بیٹی سے وہ کرنا چاہتے تھے اُن کی پہلی بیوی حضرت فاطمہ نے ناپسند کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا اللہ کے رسول کی بیٹی ور دشمن خدا کی بیٹی ایک جگہ اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔اس پر اگر کوئی یہ سوال اٹھائے کہ آپ نے اپنی بیٹی پر سوکن کو ناپسند کیا جبکہ تعدد ازدواج کی اسلام اجازت دیتا ہے اور خود آپ کا عمل اس کی تائید کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسا فرمانا قرآنِ کریم کی دی گئی اجازت کے بر خلاف نہیں تھا کیونکہ آپ نے خود اس موقع پر فرمایا کہ إِلى لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا (روایت نمبر ۳۱۱۰) یعنی میں کسی حلال بات کو حرام قرار نہیں دے رہا اور نہ حرام کو حلال کر رہا ہوں۔گویا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا فرمانا اس معین رشتہ کے متعلق تھا نہ کہ حضرت علی کو دوسری شادی سے روکنے کے لیے۔پس اس رشتہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی محض بیٹی کے دفاع اور غیرت پر نہ تھی بلکہ ابو جہل کی بیٹی کی تربیت اور دینی حالت کی وجہ سے آپ نے پسند نہ فرمایا کہ وہ آلِ رسول کا حصہ بنے۔اس خاندان کا اس رشتہ کے لیے کوشش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ خاندانِ نبوت سے رشتہ جوڑ کر اپنے بعض مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے جو آپ کی دور بین نگاہ دیکھ رہی تھی اس لیے آپ نے شر کا دروازہ آغاز ہی میں بند کر دیا۔باب ۱۱۰ : يَقِلُ الرِّجَالُ وَيَكْثُرُ النِّسَاءُ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں بہت ہو جائیں گی وَقَالَ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اور حضرت ابو موسیٰ (اشعری) نے نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَى الرَّجُلَ الْوَاحِدَ علیہ وسلم سے نقل کیا اور تم ایک مرد کو دیکھو گے کہ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ نِسْوَةً يَلُذْنَ بِهِ مِنْ اس کے پیچھے چالیس عورتیں لگی ہوں گی۔مردوں