صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 164 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 164

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶۴ ۶۷ - كتاب النكاح غیرت ہے جس کا انفکاک واقعی لا علاج ہے مگر عورت کی غیرت کامل نہیں بالکل مشتبہ اور زوال پذیر ہے اس میں وہ نکتہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا نہایت معرفت بخش نکتہ ہے کیونکہ جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست نکاح پر عذر کیا کہ آپ کی بہت بیویاں ہیں اور آئندہ بھی خیال ہے اور میں ایک عورت غیرت مند ہوں جو دوسری بیوی کو دیکھ نہیں سکتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تیرے لیے دعا کروں گا کہ تا خدا تعالیٰ تیری یہ غیرت دور کر دے اور صبر بخش۔۔۔نئی بیوی کی دل جوئی نہایت ضروری ہے کہ وہ مہمان کی طرح ہے مناسب ہے کہ آپ کے اخلاق اس سے اول درجہ کے ہوں اور ان سے بے تکلف مخالطت اور محبت کریں اور اللہ جل شانہ سے چاہیں کہ اپنے فضل وکرم سے ان سے آپ کی صافی محبت و تعشق پیدا کر دے کہ یہ سب امور اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔“ (مکتوبات احمد ، جلد ۲، مکتوب نمبر ۵۱، بنام حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب بھیروی ، صفحہ ۸۲، ۸۳) بَاب ۱۰۹: ذَبُّ الرَّجُلِ عَنِ ابْنَتِهِ فِي الْغَيْرَةِ وَالْإِنْصَافِ آدمی کا بوجہ غیرت اور انصاف اپنی بیٹی کی مدافعت کرنا ٥٢٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۵۲۳۰: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ لیث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ابن مَحْرَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ اس عَلَى الْمِنْبَرِ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ وقت منبر پر تھے، فرماتے تھے: بنو ہشام بن مغیرہ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يُنْكِحُوا نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِب فَلَا آذَنُ کی اجازت مجھ سے مانگی۔مگر میں اجازت نہیں ثُمَّ لَا آذَنُ ثُمَّ لَا آذَنُ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ دیتا، پھر اجازت نہیں دیتا، پھر اجازت نہیں دیتا