صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 163
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶۳ ۶۷ - كتاب النكاح صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا وَثَنَائِهِ میں نے حضرت خدیجہ پر۔اس لیے کہ رسول اللہ عَلَيْهَا وَقَدْ أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى اللہ علیہ وسلم کثرت سے اُن کا ذکر کرتے تھے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَشِّرَهَا اور اُن کی تعریف کیا کرتے تھے اور رسول اللہ بِبَيْتٍ لَهَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ۔صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وحی بھی کی گئی کہ انہیں جنت میں اُن کے ایک ایسے گھر کی بشارت دیں جو خولدار موتیوں کا ہو۔أطرافه ،۳۸۱۶ ،۳۸۱۷ ٣٨١۸، ٦٠٠٤، ٧٤٨٤- تشریح الْغَيْرَةُ: ابواب نمبر ۷ ۱۰ تا ۰ میں غیرت کا مضمون بیان کیا گیا ہے حضرت سعد بن عبادہ کی غیرت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت اور عورتوں کی اپنی سوکن کے لیے غیرت اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان کیا گیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "" واحدہ لا شریک ہو نا خدا کی تعریف ہے۔مگر عورتیں بھی شریک ہر گز پسند نہیں کرتی ہیں ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میرے ہمسایہ میں ایک شخص اپنی بیوی سے بہت کچھ سختی کیا کرتا تھا۔اور ایک مرتبہ اس نے دوسری بیوی کرنے کا ارادہ کیا۔تب اس بیوی کو نہایت رنج پہنچا اور اس نے اپنے شوہر کو کہا کہ میں نے تیرے سارے دکھ ہے۔مگر یہ دکھ مجھ سے نہیں دیکھا جاتا کہ تو میرا خاوند ہو کر اب دوسری کو میرے ساتھ شریک کرے۔وہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس کلمہ نے میرے دل پر نہایت درد ناک اثر پہنچایا میں نے چاہا کہ اس کلمہ کے مشابہ قرآن شریف میں پاؤں۔سو یہ آیت مجھے ملی۔وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذلِكَ (النساء :۱۱۷) یہ مسئلہ بظاہر بڑا نازک ہے۔دیکھا جاتا ہے کہ جس طرح مرد کی غیرت نہیں چاہتی کہ اس کی عورت اس میں اور اس کے غیر میں شریک ہو۔اسی طرح عورت کی غیرت بھی نہیں چاہتی کہ اس کا مرد اس میں اور اس کے غیر میں بٹ جاوے مگر میں خوب جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم میں نقص نہیں ہے اور نہ وہ خواص فطرت کے برخلاف ہے اس میں پوری تحقیق یہی ہے کہ مرد کی غیرت ایک حقیقی و کامل