صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 161 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 161

صحیح البخاری جلد ۱۳ 141 ۶۷ - كتاب النكاح دَخَلْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا کہ میں جنت میں فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا داخل ہوا یا ( فرمایا:) جنت میں آیا تو ایک محل قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ دیکھا میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ کہنے لگے : عمر أَدْخُلَهُ فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا عِلْمِي بن خطاب کا۔میں نے چاہا کہ اُس کے اندر جاؤں بِغَيْرَتِكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا مگر مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں تمہاری غیرت کو جانتا تھا۔حضرت عمر بن خطاب نے کہا: رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ۔أطرافه: ٣٦٧٩، ٧٠٢٤ - یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔نبی اللہ ! کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟ ٥٢٢٧ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا :۵۲۲۷ عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ (بن) مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے، یونس نے زہری سے، (زہری نے) کہا: قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ (سعيد) بن مسیب نے مجھے خبر دی۔انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فَقَالَ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا بیٹھے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ فرمایا: میں سویا ہوا ہی تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالَ هَذَا لِعُمَرَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا۔فَبَكَى محل کے ایک طرف ہو کر وضو کر رہی ہے۔میں عُمَرُ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ قَالَ أَوَ نے پوچھا: یہ عمل کس کا ہے ؟ کسی نے کہا: یہ عمر کا عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَغَارُ۔أطرافه: ٣٢٤٢، ٣٦٨٠، ۷۰۲۳، ۷۰۲۵- ہے۔پھر میں نے اُن کی غیرت کا خیال کیا اور پیٹھ موڑ کر واپس چلا آیا۔یہ سن کر حضرت عمر رو پڑے وہ اُس مجلس میں ہی تھے۔پھر اُنہوں نے کہا: کیا آپ سے یارسول اللہ میں غیرت کروں گا؟