صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 159 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 159

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۵۹ ۶۷ - كتاب النكاح عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى لایا کرتی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ کو بطور جاگیر کے دی تھی اور یہ مجھ سے تین الْأَنْصَارِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ إِخْ إِخْ فرلانگ کے فاصلے پر تھی۔ایک دن میں آئی اور لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ گٹھلیاں میرے سر پر تھیں۔راستے میں رسول اللہ مَعَ الرِّجَالِ وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ صلی اللہ علیہ وسلم ملے اور آپ کے ساتھ کچھ انصاری لوگ تھے۔آپ نے مجھے بلایا پھر آپ وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ نے (اونٹ کے بٹھانے کے لئے ) اخ اخ کہا تا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي قَدِ آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیں مگر میں شرماگئی اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ کہ مردوں کے ساتھ چلوں اور میں نے زبیر اور فَقُلْتُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ اُن کی غیرت کا خیال کیا اور وہ لوگوں میں بہت ہی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى وَمَعَهُ غیرت مند تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَنَاخَ لِأَرْكَبَ پہچان گئے کہ میں شرماگئی ہوں اور آپ آگے چلے فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ گئے۔میں زبیر کے پاس آئی اور میں نے کہا: فَقَالَ وَاللهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تھے اور عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ قَالَتْ حَتَّى میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور آپ کے ساتھ چند أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِم صحابہ تھے آپ نے اپنے اونٹ کو بٹھایا تا میں سوار تَكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا ہو جاؤں لیکن میں آپ سے شرمائی اور تمہاری غیرت کو بھی سمجھتی تھی۔وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم ! أَعْتَقَنِي۔طرفه: ٣١٥١۔تمہارا گٹھلیاں اُٹھا کر لانا مجھے زیادہ ناگوار ہے بنسبت اس کے کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوتی۔کہتی تھیں: آخر حضرت ابو بکر نے اس کے بعد مجھے ایک خادم دے دیا، جو میری جگہ گھوڑی کی خدمت کرتا تھا مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا اُنہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔