صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 154
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۵۴ ۶۷ - كتاب النكاح بَاب ١٠٦ : الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يَنَلْ وَمَا يُنْهَى مِنِ افْتِخَارِ الضَّرَّةِ جو چیزیں نہ ملی ہوں ان کے متعلق جھوٹ موٹ کہنے والا کہ مجھے ملی ہیں نیز سو کن پر فخر کرنے سے جو روکا گیا ہے ٥٢١٩ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۵۲۱۹ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام ( بن فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى عروہ ہے، ہشام نے فاطمہ (بنت منذر) سے، اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح فاطمہ نے حضرت اسماء سے، حضرت اسماء نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا نيز محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحی (بن يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ يَا رَسُولَ بن عروہ) سے روایت کی کہ مجھے فاطمہ (بنت عَنْ منذر نے حضرت اسماء سے روایت کرتے ہوئے اللهِ إِنَّ لِي ضَرَّةً فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ بتایا کہ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! میری تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي ایک سوکن ہے تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا کہ اگر میں فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ جھوٹ موٹ یہ کہوں کہ میرے خاوند سے مجھے يُعْطِينِي؟ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ یہ کچھ ملا ہے جو اُس نے مجھے نہیں دیا ؟ رسول اللہ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو جھوٹ موٹ اُن چیزوں کے ملنے کے متعلق کہتا ہے جو اس کو دی نہیں گئیں وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے جھوٹ کے کپڑے پہنے ہوں۔ریح: الْعَدْلُ بَيْنَ النساء: ابواب 99 سے ۱۰۲میں مذکور احادیث میں بیویوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں جس طرح درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے اسی طرح حقوق العباد کی ادائیگی میں آپ بشریت کے معراج پر تھے احادیث الباب میں بیویوں