صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 153
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۵۳ ۶۷ - كتاب النكاح اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي کہ اُنہی کے پاس فوت ہو گئے۔ حضرت عائشہ وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي۔ کہتی تھیں آپ اس دن فوت ہوئے جس میں آپ میرے گھر میں میرے پاس باری پر آیا کرتے تھے اور اللہ نے آپ کو وفات دے دی اس حال میں کہ آپ کا سر میرے گلے اور میرے سینے کے درمیان تھا اور آپ کا لعاب بھی میرے لعاب سے ملا۔ أطرافه: ۸۹۰، ۱۳۸۹، ۳۱۰۰ ، ۳۷۷۷، ٤٤۳۸ ، ٤٤٤٦ ، ٤٤٤٩، ٤٤٥٠، ٤٤٥١، ٦٥١٠۔ بَاب ١٠٥ : حُبُّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ کسی شخص کا اپنی بعض بیویوں سے بعض دوسری بیویوں سے بڑھ کر محبت کرنا ٥٢١٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۵۲۱۸: عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہم اللهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ سے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بتایا۔ انہوں نے یحی بن سعید انصاری) سے، عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ دَخَلَ عَلَى يحيا نے عبید بن حسین سے روایت کی۔ اُنہوں نے حَفْصَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّةِ لَا يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ حضرت ابن عباس سے سنا۔ وہ حضرت عمر رضی الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللہ عنہم سے روایت کرتے تھے کہ وہ حضرت حفصہ کے پاس گئے اور فرمانے لگے: بیٹی! کہیں اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا يُرِيدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَصَصْتُ تمہیں یہ عورت دھو کہ نہ دے جس کو اُس کے حسن نے نازاں کیا ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ۔ علیہ وسلم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اُن کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان کیا تو آپ سن کر مسکرائے۔ أطرافه: ۸۹، ۲٤٦۸ ، ۱۹۱۳ ، ۱۹۱۴ ، ۱۹۱۵ ، ۵۱۹۱، ٥٨٤۳، ٧٢٥٦، ٧٢٦٣-