صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 155
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۵۵ ۶۷ - كتاب النكاح کے حقوق کی ادائیگی کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے پیش کیا گیا ہے کہ آپ روزانہ اپنی نو ازواج کے گھروں میں جاتے اور ان کی ضروریات پوری کرتے۔نو گھروں کے حقوق جس عمدگی اور حسن و احسان سے آپ نے ادا کیے اس کا نیک اثر آپ کی ازواج پر اس قدر تھا کہ آپ کی ازواج کو جب یہ اختیار دیا گیا کہ چاہو تو دنیا کے مال و اسباب لے کر الگ ہو جاؤ تو تمام ازواج نے بیک زبان کہا ہمیں آپ کے سوا کچھ نہیں چاہیئے اور دنیا و آخرت میں ان کی سب سے بڑی تمنا یہی تھی کہ آپ کا قرب نصیب ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو عرب میں صدہا بیویوں تک نکاح کر لیتے تھے اور پھر ان کے درمیان اعتدال بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ایک مصیبت میں عورتیں پڑی ہوئی تھیں جیسا کہ اس کا ذکر جان ڈیون پورٹ اور دوسرے بہت سے انگریزوں نے بھی لکھا ہے۔قرآن کریم نے ان صد با نکاحوں کے عدد کو گھٹا کر چار تک پہنچا دیا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (النساء:۴) یعنی اگر تم ان میں اعتدال نہ رکھو تو پھر ایک ہی رکھو۔پس اگر کوئی قرآن کے زمانہ پر ایک نظر ڈال کر دیکھے کہ دنیا میں تعدد ازدواج کس افراط تک پہنچ گیا تھا اور کیسی بے اعتدالیوں سے عورتوں کے ساتھ برتاؤ ہوتا تھا تو اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ قرآن نے دنیا پر یہ احسان کیا کہ ان تمام بے اعتدالیوں کو موقوف کر دیا لیکن چونکہ قانون قدرت ایسا ہی پڑا ہے کہ بعض اوقات انسان کو اولاد کی خواہش اور بیوی کے عقیمہ ہونے کے سبب سے یا بیوی کے دائمی بیمار ہونے کی وجہ سے یا بیوی کی ایسی بیماری کے عارضہ سے جس میں مباشرت ہر گز نا ممکن ہے جیسی بعض صورتیں خروج رحم کی جن میں چھونے کے ساتھ ہی عورت کی جان نکلتی ہے اور کبھی دس دس سال ایسی بیماریاں رہتی ہیں۔اور یا بیوی کا زمانہ پیری جلد آنے سے یا اس کے جلد جلد حمل دار ہونے کے باعث سے فطرتا دوسری بیوی کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے اس قدر تعدد کے لئے جواز کا حکم دے دیا اور ساتھ اس کے اعتدال کی شرط لگا دی سو یہ انسان کی حالت پر رحم ہے تا وہ اپنی فطری ضرورتوں کے پیش آنے کے وقت الہی حکمت کے تدارک سے محروم نہ رہے جن کو اس بات کا علم نہیں کہ عرب کے باشندے قرآن شریف سے پہلے کثرت ازدواج میں کس بے اعتدالی