صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 152 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 152

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۵۲ ۶۷ - كتاب النكاح بڑھاپے کے ناقابل ہو چکی تھیں۔علاوہ ازیں یہ امر بھی فرض کرنا ہو گا کہ آپ سے دریافت کیا گیا تھا اور آپ نے بتلایا تھا کہ میں نے سب کے ساتھ مباشرت کی ہے۔یہ سب باتیں دُور از قیاس ہیں۔طبعی حیا اس قسم کے سوال کرنے اور جواب دینے سے مانع ہوتی ہے۔۔۔اگر طواف کے معنی جماع کے ہی کئے جائیں تو زیادہ سے زیادہ جو بات ثابت ہوتی ہے ، وہ مطلق اعادہ جماع ہے۔۔۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ جانا ان کی خبر گیری کرنے اور بازار سے سودا وغیرہ لانے اور دیگر ضروریات زندگی پورا کرنے کی غرض سے تھا۔“ صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الغسل، باب اذا جامع ثم عاد، جلد اول صفحه ۳۵۸٬۳۵۷) بَاب ١٠٤ إِذَا اسْتَأْذَنَ الرَّجُلُ نِسَاءَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِ بَعْضِهِنَّ فَأَذِنَّ لَهُ اگر کوئی شخص اپنی بیویوں سے یہ اجازت مانگے کہ اُن میں سے کسی ایک کے گھر میں اس کی تیمار داری کی جائے اور وہ اس کو اجازت دیں ٥٢١٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۵۲۱۷: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ هِشَامُ کیا۔اُنہوں نے کہا: سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ کہ ہشام بن عروہ نے کہا: مجھے میرے باپ نے رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَيْنَ أَنَا غَدًا اس بیماری میں جس میں آپ فوت ہوئے پوچھتے أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ تھے کل میں کہاں ہوں گا، کل میں کہاں ہوں لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ گا۔آپ کی مراد حضرت عائشہ کی باری معلوم فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا کرنا تھی۔یہ دیکھ کر آپ کی بیویوں نے آپ کو قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَاتَ فِى الْيَوْمِ الَّذِي اجازت دے دی کہ جہاں چاہیں رہیں۔چنانچہ كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ آپؐ حضرت عائشہ کے گھر میں رہے۔یہاں تک