صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 151 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 151

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۵۱ ۶۷ - كتاب النكاح الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ۔ بیویوں کے پاس ہو آتے اور اُن دنوں آپ کی نو أطرافه: ٢٦٨، ٢٨٤ ، ٥٠٦٨۔ بیویاں تھیں۔ باب ۱۰۳ : دُخُولُ الرَّجُلِ عَلَى نِسَائِهِ فِي الْيَوْمِ آدمی کا ایک ہی دن میں اپنی بیویوں کے پاس جانا ٥٢١٦ : حَدَّثَنَا فَرْوَةُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ :۵۲۱۶ فروہ (بن ابی المغراء) نے ہم سے بیان کیا بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ که علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ ( بن عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کے باپ نے حضرت ت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى روایت کی۔ فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ فَدَخَلَ وَسلم جب عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی تمام عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مَا كَانَ بیویوں کے پاس جاتے اور اُن میں سے کسی کے پاس بیٹھتے بھی۔ ایک بار حفصہ کے پاس گئے اور يَحْتَبِسُ۔ وہاں اُس سے زیادہ ٹھہرے رہے جتنا کہ آپ عادتا ٹھہرا کرتے تھے۔ أطرافه: ٤٩١٢ ٥٢٦٧، ٥٢٦٨، ٥٤٣٤ ، ٥٥٩٩، ٥٦١٤ ، ٥٦٨٢، ٦٦٩١، ٦٩٧٢- تشريح : مَنْ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ واحد : جو ایک ہی نسل سے اپنی سب عورتوں کے پاس سے ہو آئے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: یہ سوال کہ تمام بیویوں کے ساتھ آپ نے مباشرت کی ہوگی۔ اس کے متعلق جواب دینے کے یہ معنی ہیں کہ پہلے یہ فرض کر لیا جائے کہ سب عورتیں حالت طہر میں تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی حائضہ نہ تھی۔ پھر اس کے ساتھ طاف في نسایہ کے معنوں کو جماع کے معنوں میں محدود کرنا ہو گا۔ اور تمام عورتوں کو شامل کرنا ہو گا اور اگر سبھی کو شامل کیا جائے تو اس کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے بھی آپ نے اس رات مباشرت کی تھی جو بوجہ