صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 147
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴۷ ۶۷ - كتاب النكاح کے جواز یا عدم جواز کا فتولے عورت کے حالات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اگر ضرورت کے موقع پر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ جائز ہے۔اگر بلاضرورت کیا جاتا ہے تو نا پسندیدہ ہے اور اگر نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو حرام ہے۔“ ( تفسیر کبیر، سورة التكوير ، زیر آیت وَإِذَا الْمَوْدَةُ سُبلت جلد ۸ صفحه ۲۲۳) بَاب ۹۷ : الْقُرْعَةُ بَيْنَ النِّسَاءِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا عورتوں میں قرعہ ڈالناجب سفر پر جانے کا ارادہ کرے ٥٢١١ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۵۲۱۱: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الواحد عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي بن ایمن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: مجھے ابن ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ ابی ملیکہ نے بتایا۔ابن ابی ملیکہ نے قاسم (بن محمد ) عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، قاسم نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ نبی وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَراً أَقْرَعَ بَيْنَ صلى اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کہیں سفر کا نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ لِعَائِشَةَ ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ وَحَفْصَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ڈالتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ کے نام پر قرعہ نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلَا تھا کہ جب رات کو سفر کرتے تو حضرت عائشہ کے تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ ساتھ باتیں کرتے جاتے۔حضرت حفصہ نے تَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ فَقَالَتْ بَلَى فَرَكِبَتْ حضرت عائشہ سے) کہا: کیا آج رات تم میرے فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اونٹ پر سوار ہوگی اور میں تمہارے اونٹ پر سوار إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ ہو جاتی ہوں اور تم بھی تماشا دیکھو گی اور میں بھی فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلُوا دیکھوں گی۔حضرت عائشہ نے کہا: کیوں نہیں ضرور وَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ چنانچہ وہ سوار ہوگئیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت رِجْلَيْهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ وَتَقُولُ رَبِّ عائشہ کے اونٹ کے پاس آئے اور اس پر حضرت