صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 146
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴۶ ۶۷ - كتاب النكاح دوسرے جب عزل بھی واد خفی ہے تو یہ فعل بھی کسی سزا کا مستحق ہونا چاہیئے لیکن یہ بات روایت سے درست معلوم نہیں ہوتی۔ اوّل تو اگر عزل منع ہے اس وجہ سے کہ عزل و اد خفی ہے ا ہے تو پھر حاملہ سے جماع بھی منع ہونا چاہیئے مگر حمل کے ایام میں جماع کی حرمت کہیں سے ثابت نہیں حالانکہ وہ و ادخفی اور یقینی ہے۔ د عزل کے جائز ہونے کے متعلق بھی احادیث آتی ہیں مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا بے شک کرو جس متنفس کو خدا نے پیدا کرنا ہے وہ تو اُسے بہر حال پیدا کر کے رہے گا (بخاری کتاب القدر باب كان امر الله قدراً مقدوراً) پس چونکہ عزل کا جو از بعض دوسری احادیث سے ثابت ہے اس لئے گو یہ حدیث بڑے بلند پایہ کی ہے مگر میرے نزدیک اس کے یہی معنے ہیں کہ بلا ضرورت ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔ اگر کوئی شخص بلا ضرورت ایسا کرتا ہے تو وہ واد خفی سے کام لیتا ہے یعنی وہ شخص جس کی عزل سے غرض نسل انسانی کا انقطاع ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجرم اور گنہگار ہے ورنہ اور کئی صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن میں عزل ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کی بیوی بیمار ہے۔ وہ دوسری شادی کی توفیق نہیں رکھتا لیکن خود اُس میں خدا نے قوائے شہوانیہ پیدا کئے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گیا تو اس کی جان کا خطرہ ہوگا ایسی حالت میں نہ صرف عزل جائزہ ہو گا بلکہ اگر حمل ہو جائے تو اُس کا نکلوا دینا بھی جائز ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے میں نے خود سنا ہے کہ ایسی حالت میں اگر کوئی عورت حمل نہیں نکلواتی اور وہ مر جاتی ہے تو ہمارے نزدیک وہ خود کشی کرنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا ایسی حالت میں ضروری ہے کہ بچہ کو نکلوا دیا جائے کیوں کہ بچہ کے متعلق تو ہمیں کچھ علم نہیں کہ اُس نے کیسا بنا ہے مگر ایک زندہ وجود ہمارے سامنے ہوتا ہے اور اُس کی جان کی حفاظت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ اس کو بچایا جائے اور اس کے بچے کو تلف ہونے دیا جائے۔ لیکن اگر کوئی خشیۃ الطلاق کی وجہ سے عزل کرتا یا حمل کو نکلواتا ہے تو وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ بہر حال عزل